

بحرین کے عوام نے آج ایک بارپھر حکومت کے خلاف مظاہرہ کرکے آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا ۔ بحرین کے عوام گذشتہ دوہفتوں سے احتجاجی مظاہرے کرکے حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہيں اس دوران سیکورٹی فورسز کے حملوں میں نو افراد شہید اور دسیوں ديگر زخمی ہوچکے ہيں ۔ بحرین کی اسلامک ایکشن جمعیت کے ڈپٹی سکریٹری جنرل عبداللہ صالح نے کہا ہے کہ بحرین کے ہر طبقے کے لوگ جس
میں شیعہ و سنی سبھی شامل ہیں اس بات کا تہیہ کئے ہوئے ہيں کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہيں ہوجاتے وہ اپنے مظاہرے جاری رکھیں گے۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے بعض سیاسی اصلاحات اور کچھ وزیروں کو برطرف کرنے کے اعلان کو مایوس کن قراردیا اور کہا اگر حکومت نے عوام کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو احتجاجی مظاہروں میں اور بھی شدت آجائے گی ۔ بحرین کے عوام نے گذشتہ چودہ فروری سے حکومت کے خلاف اپنا انقلاب شروع کررکھا ہے بحرین کی کئی اور اہم شخصیتوں نے جن میں علماء اسلامی بحرین کی کونسل کےرکن حیدر الستری اور مجید مشعل سمیت بحرین کی یونیورسٹیوں کی یونین کے ترجمان ابراہیم اشکنانی اور ڈیموکریٹک موومنٹ کے جنرل سکریٹری عبدالنبی سلمان وغیرہ شامل ہيں، حکومت کی برطرفی اور ایک منتخب حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا ان بحرینی شخصیتوں نے کہا کہ بحرین کی حکومت بہت جلد عوام کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی ۔