اربعین کا عالمی پیغام: عدل، حق اور انسانیت کے چراغ کو روشن رکھو — مولانا خورشید عابدی
شیعیت نیوز : حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے کے مطابق، کربلا کے میدان میں چودہ سو سال سے بھی پہلے انسانی تاریخ کی عظیم ترین قربانی اور عدل کا معرکہ برپا ہوا۔ اسی یاد میں آج امام حسینؑ اور اُن کے جانثار ساتھیوں کی شہادت کے چالیسویں دن کو اربعین کے طور پر منایا جاتا ہے، جو اب مذہبی سرحدوں سے آگے بڑھ کر ایک عالمی انسانی تحریک بن چکا ہے۔
ہر سال کروڑوں زائر پیدل چل کر کربلا پہنچتے ہیں تاکہ امام حسینؑ کے عدل و حق کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کر سکیں۔
اسی حوالے سے حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے نے ذاکر اہلبیت و مبلغ سید حسین خورشید عابدی (امام جماعت، سرائے خانہ، مرشید آباد، مغربی بنگال) سے خصوصی گفتگو کی، جسے ہم سوال و جواب کی شکل میں پیش کر رہے ہیں۔
حوزہ: السلام علیکم مولانا، گفتگو کے آغاز میں یہ بتائیے کہ اربعین کی اصل اہمیت کیا ہے؟
سید حسین خورشید عابدی: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ۔ اربعین صرف ایک سوگوار اجتماع نہیں بلکہ یہ عدل، حق اور انسانیت کی عظیم جدوجہد کی علامت ہے۔ امام حسینؑ نے کربلا میں جو قربانی دی، اُس کی یاد ہم شہادت کے چالیسویں دن تازہ کرتے ہیں۔ یہ دراصل اتحاد و یکجہتی کا ایک عظیم قافلہ ہے جس میں نہ سرحد کی رکاوٹ ہے نہ نسل یا رنگ کا امتیاز۔
یہ بھی پڑھیں : اسلامی انقلاب کے اہداف کی تکمیل میں تبلیغ محوری کردار ادا کرتی ہے: حجتالاسلام غفوری
حوزہ: اکثر کہا جاتا ہے کہ اربعین اب ایک عالمی تحریک بن چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
سید حسین خورشید عابدی: جی بالکل۔ ہر سال دنیا کے مختلف خطوں سے کروڑوں لوگ پیدل کربلا کا سفر کرتے ہیں۔ یہاں امیر و غریب، مسلمان و غیر مسلم کا کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ سب ایک ہی صدا بلند کرتے ہیں—”لبیک یا حسینؑ”۔ یہی اتحاد اور بھائی چارہ اربعین کو عالمی تحریک کا درجہ دیتا ہے۔
حوزہ: اہلِ بیتؑ پر ہونے والے ظلم کا پیغام ہم دنیا تک صحیح طور پر کیسے پہنچا سکتے ہیں؟
سید حسین خورشید عابدی: سب سے پہلے ہمیں درست اور مستند تاریخ لوگوں تک پہنچانی چاہیے۔ جھوٹے پروپیگنڈے اور مسخ شدہ تاریخ کے مقابلے میں حقائق پر مبنی سچائی کو اُجاگر کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے صحافت، ادب، فلم اور سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی کسی ایک مذہب تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے ایک دائمی الہام ہے۔
حوزہ: آپ کے نزدیک آج کی دنیا میں امام حسینؑ کی تعلیمات کتنی اہم ہیں؟
سید حسین خورشید عابدی: آج ہم روزانہ ظلم، بدعنوانی، جنگ اور انسانی حقوق کی پامالی دیکھتے ہیں۔ امام حسینؑ نے یہ سبق دیا کہ "ظلم کے سامنے سر نہیں جھکانا، چاہے اس کی قیمت جان سے ہی کیوں نہ دینی پڑے”۔ یہ سبق نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ ہر اُس شخص کے لیے ہے جو عدل اور انسانیت سے وابستگی رکھتا ہے۔
حوزہ: آخر میں، آپ دنیا بھر کے لوگوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
سید حسین خورشید عابدی: میری دعوت ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک بار کربلا میں اربعین کے اجتماع کا مشاہدہ ضرور کریں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو دل میں امام حسینؑ کے اصولوں کو زندہ رکھیں—عدل کا ساتھ دیں، انسانیت کا تحفظ کریں اور ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں۔ اربعین کا اصل سبق یہی ہے۔







