نائیجیریا میں فوج کے ہاتھوں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیقات کرائی جائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل
ایمنسی انٹرنیشنل نے نائیجیریا کے ایک سرکاری عہدیدار کے اس بیان کو بنیاد بناتے ہوئے تحقیقات کرائے جانے کامطالبہ کیا ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ فوج نے اسلامی تحریک کے تین سو سینتالیس کارکنوں کی لاشوں کو خفیہ طریقے سے ایک اجتماعی قبر میں دفن کردیا تھا –
نائیجیریا کے اس مذکورہ عہدیدار نے دسمبر دوہزار پندرہ کو کادونا صوبے میں رونما ہونے والے خونی واقعے کی تحقیقات کرنے والوں کو بتایا ہے کہ مذکورہ قبر میں دفن کی گئی لاشیں فوج کے گودام سے یہاں منتقل کی گئی تھیں۔ مذکورہ عہدیدار کے مطابق اس خفیہ اجتماعی قبر میں اسلامی تحریک کے کارکنوں کے اعضائے بدن دفن ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ماہرین نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ فورینسک تحقیقات کی تکمیل تک اس اجتماعی قبر کی مکمل حفاظت کیا جانا ضروری ہے ۔
واضح رہے کہ نائیجیریا کی فوج نے گزشتہ سال دسمبر میں شمالی کادونا کے شہر زاریا میں واقع سرکردہ شیعہ رہنما اور نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ آیت اللہ ابراہیم زکزکی کےگھر اور متعدد امام بارگاہوں پر حملے کرکے ،نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کی مجلس میں شریک سیکڑوں عزاداروں کو شہید کردیا تھا۔اس وحشیانہ کارروائی میں آیت اللہ ابراہیم زکزکی ، ان کی اہلیہ اور سیکڑوں دوسرے لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔
نائیجیریا کی فوج نے آیت اللہ زکزکی، ان کی اہلیہ اور اسلامی تحریک کے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیا تھا ، جنہیں تاحال رہا نہیں کیا گیا ہے-
تحریک اسلامی کے ایک سینیئر عہدیدار مصطفی محمد نے کہا ہے کہ آیت اللہ زکزکی کی حالت بدستور تشویشناک ہے اور انہیں چلنے پھرنے میں شدید دشواری پیش آرہی ہے اور حکومت ان سے ملنے اور علاج معالجے کی اجازت دینے میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔
یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ آیت اللہ ابراہیم زکزکی کو انیس سو ستر کے عشرے میں بھی اس وقت کی فوجی حکومت نے سول نافرمانی کی تحریک میں حصہ لینے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا تھا۔ بعد ازاں سن اسّی اور نوے کے عشرے میں بھی و ہ کافی عرصہ جیل میں رہے ہیں۔ اس وقت مبصرین کا کہنا تھا کہ ابراہیم زکزکی نائیجیریا کے فوجی حکمرانوں اور ون پارٹی نظام کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔
کادونا شہرمیں اجتماعی قبر کے انکشاف کے بعد ذرائع ابلاغ کی توجہ ایک بار پھر نائیجیر کے مسلمانوں کی صورتحال کی جانب مبذول ہوگئی ہے۔ حکومت نائیجیریا نے اجتماعی قبر کے انکشاف کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔