خوارج اور کالعدم لشکرِ جھنگوی: پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمن
سیکیورٹی حلقوں اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نظریاتی طور پر تکفیری اور وہابی/داعشی سوچ رکھنے والے فتنہ الخوارج اور کالعدم لشکرِ جھنگوی کے عناصر نے ماضی میں باہمی رابطے اور تعاون کے ذریعے پاکستان کے خلاف منظم حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس خطرناک اتحاد نے سرحد پار سے دہشت گردانہ کارروائیوں کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاک افغان سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان اور کالعدم لشکر جھنگوی کا گٹھ جوڑ بے نقاب
سیکیورٹی افسران کے مطابق، دونوں گروہوں کے نظریات میں بنیادی مماثلت ہے — ایک سخت تکفیری سوچ، انتہاپسند مسلکی امتیاز، اور تشدد کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا عزم۔
اسی نظریاتی ہم آہنگی نے انہیں باہمی رابطے اور کبھی کبھار مشترکہ کارروائیوں کی راہ پر ڈال دیا، جس کے نتیجے میں قریبی سرحدی علاقوں میں خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد نہ صرف داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ پاکستان کے استحکام اور خطے کے امن کو بھی متاثر کر رہا ہے۔







