Uncategorized

فلسطین پوری انسانیت کے لیے محاذِ اوّل ہے، آیت اللہ علی رضا اعرافی

غزہ میں صیہونی مظالم عالمی اداروں کی ناکامی اور انسانی حقوق کے دوہرے معیار کا ثبوت ہیں، دینی رہنما عملی لائحہ عمل تیار کریں

شیعیت نیوز : سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے دوسرے بین الاقوامی کانفرنس برائے رہبران دینی میں کہا ہے کہ دنیا کے تمام دینی رہنماؤں پر لازم ہے کہ فلسطین اور خاص طور پر غزہ کے مسئلے کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھیں اور اس ظلم کے مقابلے میں عملی موقف اختیار کریں۔

یہ اجلاس ملیشیا میں منعقد ہوا جس میں مختلف مذاہب اور ادیان کے سیکڑوں رہنماؤں نے شرکت کی۔ آیت اللہ اعرافی نے "فاجعہ غزہ، عالمی اداروں کی ناکامی اور انسانی اقدار میں دوہرا معیار” کے موضوع پر منعقدہ ایک ذیلی اجلاس کی صدارت کی۔

یہ بھی پڑھیں : نجف اشرف میں مدرسہ امام باقرؑ کا افتتاح، علامہ شفقت شیرازی کا خصوصی خطاب

انہوں نے اپنے خطاب میں دینی رہنماؤں کی دو بڑی ذمہ داریاں بیان کیں:

1- پیروانِ ادیان میں اتحاد، ہم آہنگی اور تعاون پیدا کرنا۔
2- ظلم، استعمار اور استکبار کے خلاف ڈٹ جانا اور مزاحمت کو مضبوط کرنا۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ ان دونوں ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے دینی رہنماؤں کو مسلسل نشستیں، مشترکہ بیانیہ اور ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا تاکہ دنیا میں حقیقی امن اور انصاف قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے غزہ کی صورتِ حال کو موجودہ دنیا کی سب سے بڑی انسانی مصیبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ جہاں بین الاقوامی اداروں کی ناکامی اور انسانی حقوق کے دوہرے رویے کو ظاہر کرتا ہے، وہیں اہلِ غزہ کی استقامت اور عظمت کی علامت بھی ہے۔

سربراہ حوزہ علمیہ نے فلسطین کو پوری امتِ اسلامیہ اور حتیٰ کہ تمام انسانیت کے لیے "محاذِ اوّل” قرار دیا اور کہا کہ صیہونی حکومت صرف ایک خطے یا قوم کی دشمن نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام اور انسانیت کی دشمن ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا واحد منصفانہ اور منطقی حل یہ ہے کہ "تمام اصلی فلسطینی عوام کے درمیان ایک ریفرنڈم اور آزادانہ انتخابات” منعقد کیے جائیں۔ تاہم جب تک صیہونی حکومت اور مغربی ممالک اس حل کو روکیں گے، واحد راستہ ظلم اور قبضے کے خلاف مزاحمت ہی ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے دو ریاستی حل یا تعلقات کی بحالی جیسے منصوبوں کو غلط اور ناکام قرار دیا اور زور دیا کہ دینی رہنما پوری دنیا میں اس بات کو عملی تحریک میں بدلیں کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تمام سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات ختم کیے جائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button