مفتی جعفر حسینؒ کا تاریخی انٹرویو: زکوٰۃ آرڈیننس اور اسلام آباد کنونشن پر دوٹوک مؤقف

29 اگست, 2025 14:09

ترتیب و تنظیم: سید نثار علی ترمذی

شیعیت نیوز : میں اسلامیہ کالج گجرانوالہ میں ایف اے کا اسٹوڈنٹ تھا۔ طبیعت میں جستجو اور ہر چیز کے بارے میں سب کچھ جان لینے کی تڑپ سی تھی۔ مشاہیر سے ملنے اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کا خبط تھا۔ انہی دنوں کی بات ہے کہ میں پہلی بار اپنے دوست سبط حسن (ضیغم البھاکری) کے ساتھ ایک برگزیدہ ہستی سے ملنے ان کے گھر گیا تھا۔ اس گھر میں علم دوست اور حقیقتوں کے متلاشی لوگ دور دور سے آتے اور علم کے اس سرچشمے سے پیاس بجھاتے تھے۔ اس کے بعد بھی مجھے کئی بار ان علمی محفلوں سے فیض یاب ہونے کا موقع میسر آیا۔ پھر جلد ہی حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ مجھے تلاشِ روزگار ان محافل نور اور خود اپنے شہر سے سینکڑوں میل دور بلوچستان لے گئی۔ آج 22 برس بعد میں پھر اسی مکان کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ امنگیں اور آرزوئیں جو ایک ایک کرکے بکھر گئیں، قوم ملک اور انسانیت کی خدمت کے منصوبے، جنھیں حالات نے ڈراؤنا خواب بنا دیا، زندگی کے 22 برس عمر کے بہترین دور کی معصوم یادیں ذہن میں بجلی کی طرح کوند گئیں۔

میں ماضی کے دھندلکوں میں کھویا کھڑا تھا کہ ڈرائینگ روم کے کھلے دروازے سے شفقت اور محبت میں ڈوبی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ اندر آجایئے۔ سامنے انسان دوستی، علم و شرافت کے نور سے روشن پیشانی والے درویش صفت وہی بزرگ سر تاپا خوش آمدید بنے کھڑے تھے، جن کا نام نامی حضرت علامہ مفتی جعفر حسین ہے۔ کمرے میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سیکرٹری جنرل سید شبیر حسین نقوی ایڈووکیٹ جو ناصرف میرے اسکول کے زمانے کے استاد ہیں بلکہ کالج کے ساتھی بھی ہیں، ایک اور شیعہ عالم کے ہمراہ پہلے ہی موجود تھے۔ کئی دنوں کی تگ و دو کے بعد انٹرویو کے لیے پروگرام اور وقت پہلے ہی طے کیا جا چکا تھا۔ مفتی صاحب اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوئے اور کچھ اس انداز میں چارپائی پر بیٹھ گئے، جیسے فرما رہے ہوں کہ ہاں صاحب!  پوچھیے کیا پوچھنا چاہتے ہیں آپ مجھ سے۔ ہم نے موقع مناسب جان کر پہلا سوال کیا۔

جنجوعہ: مفتی صاحب 4 اور 5 جولائی کو اسلام آباد جا کر آپکو احتجاج کا راستہ کیوں اختیار کرنا پڑا؟ کیا آپ نے زکوٰۃ آرڈیننس کے نفاذ سے پہلے انتظامیہ کو اپنی حتمی رائے سے آگاہ نہیں کیا تھا۔؟
مفتی صاحب: 
آپ آگاہ کرنے کی بات کرتے ہیں، ہماری بھرپور کوشش کے نتیجے میں ہمیں انتظامیہ کی طرف سے یقین دلایا گیا تھا کہ کسی بھی صورت میں ایک فرقے کی فقہ دوسرے فرقے پر مسلط نہیں کی جائے گی۔ ہم مطمئن تھے، لیکن 20 جون کو کیے گئے اعلان سے ہم نے محسوس کیا کہ ہمیں نظر انداز کر دیا گیا ہے، اسی وجہ سے ہم نے چار اور پانچ جولائی کو اسلام آباد میں شیعہ کنونشن بلانے کا اہتمام کیا، تاکہ حکومت کو کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کروائی جائے۔

جنجوعہ: احتجاج کے دوران آپکو کن کن مراحل سے گزرنا پڑا اور کون کون سے مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔؟
مفتی صاحب:
 ہمیں منع کیا گیا تھا کہ ہم اجتماع نہ کریں، تاہم راولپنڈی میں جمع ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی، لیکن ہم نے اسلام آباد ہی میں کنونشن منعقد کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ ہمارے مسلک کے حضرات جوق در جوق لاکھوں کی تعداد میں ملک کے کونے کونے سے مقررہ مقام پر پہنچ چکے تھے۔ ہم نے اپنے ساتھیوں کو سختی سے منع کر دیا تھا کہ کسی قسم کی اشتعال انگیزی اور تخریب کاری، توڑ پھوڑ کے ہرگز مرتکب نہ ہوں۔ چار تاریخ کو صبح سے 12 بجے رات تک پرجوش اور مدلل تقریریں ہوتی رہیں۔ پانچ تاریخ کو ہمیں جلوس نکالنا پڑا، علماء کرام آگے آگے تھے۔ جلوس میں شامل افراد کی تعداد کے بارے میں لوگوں کی مختلف رائے ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شیعیان حیدر قرار کی تعداد اڑھائی لاکھ سے کم نہ تھی۔ جلوس پرامن تھا، قابل اعتراض نعرے بازی تک بھی نہیں کی گئی۔ یکایک جلوس کو ایمبیسی روڈ (اسلام آباد) کی طرف بڑھنے سے منع کیا گیا۔ جلوس کے شرکاء نے ماتم شروع کر دیا، ممکن ہے کچھ انتشار پسند عناصر بھی ہم میں شامل ہوگئے ہوں، لیکن پولیس والوں کی زیادتی کی وجہ سے صورت حال خراب ہوگئی۔

گیس کے گولے سے ہمارا ایک بھائی جاں بحق اور کئی ایک زخمی ہوگئے۔ عام لوگوں کا رویہ بہت ہم دردانہ تھا۔ انھوں نے آنسو گیس کے اثرات سے بچنے کے لیے ہمیں پانی کی بالٹیاں بھر بھر کر دیں۔ کپڑے بھگو بھگو کر دیئے، زخمیوں کو سنبھالا، پینے کے لیے پانی مہیا کیا، کھانے پینے کی چیزیں دیں۔ پانچ جولائی کی رات کو موسلا دھار بارش ہوئی تمام رات اہل تشیع بارش میں کھلے آسمان تلے دھرنا مار کر بیٹھے رہے اور گاہے بگاہے جوش و خروش قائم رکھنے کے لیے ماتم کرتے رہے۔ حسینی منزل کا کوئی راہی ٹس سے مس نہ ہوا۔ سب اپنی جگہ چٹانوں کی طرح ڈٹے رہے۔ صبح کو انتظامیہ کے کارندوں نے پانی اور خوراک کی سپلائی بند کر دی۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم پر جو بیت گئی، نہ ہم بتا سکتے ہیں اور نہ آپ لکھ سکتے ہیں۔ اخباروں پر سینسر ہے، صحافت پابند ہے، ہم ان لوگوں کے شکر گزار ہیں، جنھوں نے غیر شیعہ ہوتے ہوئے بھی رواداری اور ہمدردی سے کام لیا اور اپنے سلوک سے ہمیں یقین دلایا کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔

جنجوعہ: آپ کے خیال میں شیعہ مسلک کی ملک میں نسبت کیا ہوگی۔؟
مفتی صاحب:
 ہم کم از کم پاکستان میں دو کروڑ کی تعداد میں ہیں، نسبت آپ خود نکال لیجیے۔

جنجوعہ: مفتی صاحب آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں 97 فیصد آبادی مسلمان ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے عوام عقیدے کے لحاظ سے مختلف مسالک کے پیروکار ہیں، اگر ہر فرقے نے اپنے اپنے مسلک پر عملدرآمد کرانے کی کوششیں شروع کر دیں تو کیا ہماری آبادی انتشار کا شکار نہیں ہو جائے گی اور اس طرح ہماری قومی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا احتمال نہیں ہوگا۔؟
مفتی صاحب: 
بنیادی طور پر پاکستان میں دو ہی فقہیں ہیں۔ فقہ حنفیہ اور فقہ جعفریہ، جہاں تک قومی یکجہتی کا سوال ہے، میں واضح کر دوں کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں اور اپنے وطن کے ذرے ذرے سے پیار کرتے ہیں۔ ہمیں اپنا وطن اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، قومی یکجہتی اس وقت متاثر ہوتی ہے، جب عوام پر جبراً اپنی رائے ٹھونسی جائے اور افہام و تفہیم کی بجائے طاقت اور تشدد سے کام لیا جائے۔ حقوق طلب کرنے والوں کو غدار اور شرپسند قرار دیا جائے۔ اگر اس کے برعکس ملک کے عوام کو عملاً یہ احساس دلایا جائے کہ ملک کے اصل مالک و وارث اور حکمران وہ خود ہیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ملک میں بے چینی اور انتشار پیدا ہو یا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچے یا ملکی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔

جنجوعہ: حکومت کے مطابق اب تک نظام اسلام کے نفاذ کے سلسلے میں جنرل ضیاء الحق کی طرف سے کئی ایک اقدامات کیے گئے، کیا فقہ جعفریہ کی روشنی میں آپکو تمام اقدامات سے اختلاف ہے یا صرف زکوٰۃ کے سلسلے میں آپکی رائے مختلف ہے۔؟
مفتی صاحب:
 ہمارا صرف قطع ید یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا اور زکوٰۃ کی وصول کے طریقہ کار سے اختلاف ہے۔ زکوٰۃ میں جبر نہیں ہونا چاہیئے۔ اس کی ادائیگی اور تقسیم میں صاحب نصاب کی مرضی، خوشی اور رضا و رغبت شامل ہونی چاہیئے۔

یہ بھی پڑھیں : قائد ملت جعفریہ مفتی جعفر حسینؒ کی برسی پر علامہ شبیر میثمی کا خراج عقیدت

جنجوعہ: مفتی محمود صاحب نے بھی زکوٰۃ کے نفاذ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اموال دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک ظاہر اور دوسرے باطنہ۔ انھوں نے سیونگ بینک اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقوم کو باطنہ قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ شریعت کی رو سے اموال باطنہ پر زکوٰۃ حکومت وصول نہیں کرسکتی بلکہ صاحب نصاب خود اپنی مرضی سے زکوٰۃ ادا کرے۔
مفتی صاحب:
 جی ہاں یہ درست ہے، فقہ حنفیہ کی رو سے بھی ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے۔

جنجوعہ: جس انداز میں شیعہ حضرات نے اسلام آباد میں حکومت کے دفاتر کا گھیراؤ کیا، لوگ آپکو پاکستان کا خمینی کہنے لگے ہیں۔ اس بارے میں آپ کچھ فرمانا پسند فرمائیں گے۔؟
مفتی صاحب:
 آیت اللہ خمینی کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ انھوں نے آمریت اور سامراجیت کے خلاف جس پامردی سے جہاد کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی جدوجہد، صبر و استقلال اور مقصد کے لیے بے مثال قربانیوں نے انھیں دنیا بھر میں ممتاز بنا دیا ہے، میں تو ان کی خاک پا کے بھی برابر نہیں ہوں۔ لوگ مجھے ایسا کہتے ہیں تو غلطی پر ہیں۔ ان کے یہ الفاظ بے معنی اور بے مقصد ہے۔ خمینی آفتاب ہیں اور ان کے مقابلے میں میری حیثیت ایک ذرے کے برابر بھی نہیں۔ اللہ پاک ہمیں ان کے نقش پا پر چلنے کی ہمت اور توفیق عنایت فرمائے۔

جنجوعہ: بعض لوگ آپکی جدوجہد کو کسی اور ہی انداز میں دیکھتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ آپ نے عراق کو ایران کے حق میں متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔؟
مفتی صاحب:
 یہ سراسر بہتان اور جھوٹ ہے۔ ہم نا عراق کے دشمن ہیں نا ایران کے وظیفہ خوار۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ خود علامہ خمینی ایرانی انقلاب کی کامیابی سے پہلے مدتوں عراق میں پناہ لیے رہے۔ ایران عراق کا اپنا سیاسی مسئلہ ہے، جب کہ ہم پاکستانیوں کے مطالبات خالصتاً مذہبی ہیں۔ اس سے کسی داخلی خارجی سیاست کا ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ عراق اور ایران والوں کا اپنا معاملہ ہے، جس کی نوعیت سیاسی ہے۔ ہماری تمام سرگرمیاں اپنے وطن پاکستان تک محدود ہیں، ہم کسی کے معاملات میں دخل دینے کے مخالف ہیں۔ ہم شیعیان حیدر کرار محب وطن پاکستانی ہیں۔ ہمارے مطالبات کا تعلق مذہب سے ہے، سیاست سے نہیں۔

جنجوعہ: افغانستان کے بارے میں اپ کا کیا خیال ہے۔؟
مفتی صاحب:
 ان کا بھی اپنا معاملہ ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں ان سے ہمدردی ضرور ہے، لیکن ہم کون ہوتے ہیں، ان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے والے۔

جنجوعہ: لیکن ایران کا رویہ مختلف ہے۔؟
مفتی صاحب:
 بھائی میں پاکستانی ہوں، ایرانی نہیں۔

جنجوعہ: فقہ جعفریہ کے مطابق جائز سربراہ مملکت کون ہوتا ہے اور اس کے چناؤ کا طریقہ کیا ہے۔؟
مفتی صاحب:
 اسلامی نظام حکومت میں مملکت کا سربراہ وہی ہوگا، جو اسلام کا سب سے زیادہ پابند ہو اور اسلام سے پوری طرح آگاہی رکھتا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ رائے عامہ بھی اس کے حق میں ہونا ضروری ہے۔ حاکمیت تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ سربراہ اللہ تعالیٰ کے کارندے کی حیثیت سے اس کے احکامات کو جاری کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ حکومتی امور چلانے کے لیے کسی کی بھی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں، جیسے ایران میں ہے، لیکن اقتدار اللہ کے برگزیدہ، پسندیدہ، متقی اور پرہیزگار افراد کی جماعت کے ہاتھ میں ہوگا۔

جنجوعہ: یہ تو آپ نے اسلام میں اقتدار اعلیٰ کے تصور کی وضاحت کر دی، میرا مطلب ہے کہ سربراہ مملکت کو چننے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔؟
مفتی صاحب:
 اہل خبرہ یعنی اہل علم کی ایک جماعت ہوگی، جو اقتدار کی امین ہوگی۔ اہل خبرہ میں سے جو شخص بھی اپنے آپ کو ایمان، علم اور تقوٰی کی بنا پر نمایاں اور ممتاز بنائے گا، اسے سربراہ مملکت مان لیا جائے گا، لیکن وہ اللہ اور رسولؐ کے اوامر اور احکام کا پابند ہوگا۔ وہ اپنی ذات کے لیے اقتدار کو استعمال میں نہیں لائے گا۔ اسلام میں اقتدار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔

جنجوعہ: کیا سربراہ مملکت کا تقرر مسالک کے حضرات کے لیے کشمکش کا باعث نہیں بن جائے گا۔؟
مفتی صاحب:
 پاکستان ہم سب کا ہے، اگر فقہ جعفریہ کے پیروکار اپنے ملک میں سنی سربراہ مملکت کو قبول کر لیتے ہیں تو پھر سنیوں کو بھی فراخ دلی اور خوشی سے شیعہ سربرا مملکت کو قبول کر لینے میں کوئی عذر نہیں ہونا چاہیئے۔ یہی رواداری ہے، جو کسی بھی قوم اور ملک کے لیے باعث رحمت ہوتی ہے۔

جنجوعہ: اگر 15 ستمبر کو آپکو مطمئن نہ کیا گیا تو آپکا ردعمل کیا ہوگا۔؟
مفتی صاحب:
 اول تو مجھے یقین ہے کہ شیعوں میں ذہنی انتشار پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ ہمارے پاس معاہدہ کی نقل موجود ہے، جس پر طرفین کی متعدد ذمہ دار شخصیتوں کے دستخط ہیں۔ بصورت دیگر (مسکراتے ہوئے، دل لگی کہ موڈ میں) آپ کو اپنے منصوبوں سے قبل از وقت آگاہ کیوں کریں اور ممکن ہے کہ کوئی منصوبہ ابھی ذہن میں ہو ہی نا۔

جنجوعہ: آپ پاکستانیوں کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں گے۔؟
مفتی صاحب:
 یہی کہ یقین، اتحاد اور یکجہتی، محبت و شفقت اور رواداری اور ہم سب کو مل کر ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیئے کہ ہر شہری اپنے اوپر کسی قسم کا دباؤ اور جبر محسوس نہ کرے۔ ہر پاکستانی کو اس امر کا احساس ہی نہیں یقین ہو کہ اس کی سوچ، فکر اور اظہار کے بنیادی حق پر کسی قسم کا کوئی جبر اور زبردستی نہیں ہے۔

جنجوعہ: بہت بہت شکریہ اب اجازت دیجئے۔
مفتی صاحب:
 خدا تمھاری عمر دراز کرے اور تمھیں حق بات کہنے کی جرأت دے۔

1:31 صبح اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔