اسرائیل غزہ کے عوام کو بھوک اور نسل کشی سے ختم کرنا چاہتا ہے، عبدالملک الحوثی
انصاراللہ سربراہ کا لبنان، شام اور مسجد الاقصی پر صہیونی سازشوں سے خبردار

شیعیت نیوز : یمنی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ نیتن یاہو لبنان کی حکومت کے اُس مثبت جواب سے خوشی میں پھولے نہیں سما رہا جو اس نے اسرائیلی مطالبات پر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کی حکومت اور بعض عرب حکومتیں مقاومت کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صہیونی انہی ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ طرز عمل محض احمقانہ ہی نہیں بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے۔
عبدالملک الحوثی نے کہا کہ اسرائیل نے 45 سال قبل جو کرنسی چھاپی تھی اُس پر پورے فلسطین، اردن، لبنان، شام کے دو تہائی حصے، مصر کے مشرق سے لے کر دریائے نیل تک، اسی طرح عراق کا مغربی حصہ، جزیرۂ عرب کا شمالی خطہ حتی کہ مدینہ منورہ تک شامل تھا۔ صہیونیوں کا نفوذ شام میں دمشق کے مضافات اور دارالحکومت کے قریب تک پہنچ چکا ہے۔ تل ابیب شام کے آبی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہے کیونکہ ملک کا جنوبی حصہ پانی کے ذخائر سے مالامال ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے کہ شام کے عوام کو دریاؤں کا پانی بھی بھاری قیمت کے عوض خریدنا پڑے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا یورپ کو دو ٹوک جواب، این پی ٹی سے علیحدگی کیلئے قانون سازی کا آغاز
ان کا کہنا تھا کہ شام پر مسلط گروہ بھی ویسا ہی کردار ادا کر رہا ہے جیسا فلسطینی خودمختار اتھارٹی کرتی ہے۔
غزہ میں جاری صہیونی مظالم کے حوالے سے الحوثی نے کہا کہ اسرائیلی فوج ہر ہفتے شہریوں کا قتل عام کر رہی ہے اور انہیں بھوک کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دنیا ان مظالم، خونریزی اور نسل کشی کی گواہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک کی طرف سے تل ابیب کے مظالم کو قبول کرنا ایک المیہ ہے۔ اسرائیلی منصوبے مقدسات، قوموں کی شناخت اور انسانی جانوں پر حملوں پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں اسپتالوں کو بنیادی ہدف بنایا ہے، اور شفا، اندونیزیا اور دیگر اسپتالوں پر حملے جاری رکھے ہیں۔ ڈاکٹروں اور امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ صحافیوں پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔
عبدالملک الحوثی نے کہا کہ ناصر کلینک پر حملہ ایک "اونچی سمجھی کارروائی” تھی۔ اسرائیل نے غزہ کی 98 فیصد زرعی ڈھانچے کو تباہ کردیا ہے، جس سے لوگ اپنی روزانہ کی خوراک کے لئے ترس رہے ہیں۔ فلسطینیوں کو سمندر میں ماہی گیری سے بھی روک دیا گیا ہے اور مغربی ممالک اس ظلم کے سب سے بڑے حمایتی ہیں۔
انہوں نے القدس اور مسجد الاقصی پر جاری اسرائیلی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب نے مسجد الاقصی کے نیچے کھدائی کی مگر کوئی تاریخی شواہد نہیں ملے۔ اسرائیل اس کے ذریعے مسجد کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور اس کام میں فلسطینی اتھارٹی اس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ اسرائیل یہی ماڈل شام اور لبنان میں بھی نافذ کرنا چاہتا ہے۔