دنیا

ترکی شام میں قابض کی حیثیت رکھتا ہے، ہیومن رائٹس واچ

شیعیت نیوز: ترکی اور ددہشت گرد تنظیم فری سیرین آرمی اپنے مخالفین کو اغوا کرکے ترکی منتقل کر رہے ہیں جس پر ہیومن رائٹس واچ نے اظہار تشویش کیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے 63 گرفتار شامی قیدیوں کو غیرقانونی طور پر ترکی منتقل کرنے کی مذمت کی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ ترکی اور سیرین نیشنل آرمی نے شامیوں کو گرفتار کیا اور پھر انہیں ترکی منتقل کیا۔

تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ترکی پر چوتھے جنیوا کنونشن کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمال مشرقی شام میں قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اکتوبر اور دسمبر 2019 کے درمیان یہ گرفتاریاں شمال مشرقی شام کے راس العین علاقہ میں ہوئی ہیں،ان حراست میں کرد اور عرب لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ترکی کے قانون کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے ترکی منتقل کیا گیا تھا جبکہ اگر وہ کسی جرم کے مرتکب ہوئے بھی تھے تو شام میں ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا یمن جنگ میں سعودی عرب سے تعاون ختم کرنے کا فیصلہ

گزشتہ برس اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے ترکی کی طرف سے قبضے میں لیے گئے علاقے راس العین میں ہونے والے جرائم کے بارے میں وارننگ جاری کی تھی۔

ترکی اپنے زیر قبضہ علاقے کو انتظامی طور پر اپنا علاقہ تصور کرتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد پر الزام ہے کہ وہ وائے پی جی کے ساتھ مل کر لڑتے رہے ہیں۔ تاہم ان افراد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہتھیار نہیں اٹھائے تھے۔

ترکی پی وائے ڈی کو دہشت گرد قرار دیتا ہے اور اسے وائے پی جی کا سیاسی ونگ سمجھتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد دو سو کے قریب ہو۔

متعلقہ مضامین

Back to top button