آل سعود کےخاندانی اختلافات طشت ازبام ہوگئے
واشنگٹن پوسٹ کے مقالہ نگار ڈ یوڈ ایگناٹیس نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہے کہ آل سعود کے اندر جاری شدید اختلافات کی وجہ سے سعودی عرب کی صورتحال اس وقت طوفان سے پہلی والی خاموشی کی سی ہے- واشنگٹن پوسٹ کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ سعودی وزیرداخلہ اورولیعہد محمد بن نایف اور سعودی وزیردفاع اورولیعہد کے جانشین محمد بن سلمان ایک ایسے وقت بادشاہت کی کرسی تک پہنچنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں جب آل سعود کے کچھ افراد تہتر سالہ احمد بن عبدالعزیز کو ملک کا آئندہ بادشاہ بنائے جانے کی حمایت کررہے ہیں – مذکورہ مقالہ نگار نے لکھا کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان میں اختلافات پچھلے مہینے اس وقت مزید شدت اختیار کرگئے جب سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیزنے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کےکہنے پر وزیرداخلہ محمد بن نایف کے مشیر سعد الجبری کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا – شاہ سلمان کے اس فیصلے سے امریکا میں بھی تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ سعود الجبری سعودی عرب اور مغرب کی انٹلیجنس ایجنسیوں کے درمیان مضبوط رابطہ تھے – واشنگٹن پوسٹ کے مقالہ نگار لکھتے ہیں کہ محمد بن نایف اور محمد بن سلمان کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی اس وقت اور زیادہ تیز ہوگئی جب اناسی سالہ سعودی بادشاہ سلمان نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کے ساتھ امریکا کا دورہ کیا اور امریکی حکام نے محمد بن سلمان سے بھی ملاقات پراصرارکیا – واشنگٹن پوسٹ کا مقالہ نگار لکھتاہے کہ سعودی عرب میں مسندبادشاہت پر بیٹھنے پر کھینچا تانی آل سعود خاندان میں اختلافات
بڑھنے کا باعث بن گئی چنانچہ اب تک مختلف سعودی شہزادوں کی طرف سے شاہ سلمان اور اسی طرح وزیرداخلہ اور ولیعہد محمد بن نایف دونوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کرنے کی متعدد درخواستیں کرچکے ہیں – یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی خاندان کےکچھ شہزادے تہتر سالہ احمد بن عبدالعزیز کو جو موجودہ شاہی سلسلے کےبانی عبدالعزیز کے بیٹے ہیں سعودی عرب کا بادشاہ بنانے کی وکالت کررہے ہیں –