غاصب اور طبقاتی معاشی نظام نے انسانیت کو غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا، علامہ سید ساجد علی نقوی

17 اکتوبر, 2025 14:03

شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے 16 اکتوبر، دنیا بھر میں عالمی یومِ تحفظ خوراک کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ عدمِ معاشی انصاف کے باعث آج پوری دنیا میں انسانیت طبقاتی نظام کی نذر ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیر دولت کے انبار کے ساتھ امیر ترین جبکہ غریب ناموافق حالات اور مساوی مواقع نہ ہونے کے باعث نانِ شبینہ سے بھی محروم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل ازم اور کیپٹل ازم دنیا کو معاشی انصاف کی فراہمی میں کامیاب نہ ہو سکے، دوسری طرف اسی عالمی بے انصافی کے نظام نے ایک صیہونی ریاست کو پروان چڑھانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔
آج غزہ کی صورتحال اس نظام کی بھیانک تصویر ہے، جہاں ایک طرف ہزاروں ٹن بمباری کے بعد اب امدادی سرگرمیوں کی پابندی کے ذریعے خوراک کا بحران پیدا کرکے انسانیت کو زندہ درگور کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران اور سعودی عرب میں نئی پیش رفت: صحت کے شعبے میں تاریخی تعاون کی راہ ہموار!

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اقوامِ متحدہ دنیا کا بظاہر متفقہ ادارہ ہے جس نے عوامی شعور و آگہی کے لیے مختلف ایام مختص کیے ہیں، مگر اس طاقتور ادارے کو اب عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ غاصب معاشی نظام نے پوری دنیا کو جکڑ رکھا ہے۔ سوشل ازم اور کیپٹل ازم خوشنما نعروں کے ساتھ آئے مگر یہ انسانیت کو معاشی انصاف نہ دے سکے، بلکہ دنیا مزید بدتر معاشی بحران میں مبتلا ہو گئی۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سابقہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی 15 فیصد سے زائد آبادی نانِ شبینہ کو ترستی ہے، جس کی بنیادی وجہ غاصبانہ معاشی نظام اور ظالمانہ طرزِ حکمرانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، جو مساوی بنیادی حقوق، معاشی انصاف اور عادلانہ طرزِ حکمرانی کا علمبردار ہے، اور جس کی بہترین مثال حضرت علیؑ کا نظامِ عدل ہے جو رہتی دنیا تک عدل و انصاف کی روشن مثال رہے گا۔

علامہ ساجد نقوی نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان میں وفاقی بجٹ پیش ہونے جا رہا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز ارضِ وطن پر منڈلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دو کروڑ سے زائد پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ بجٹ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ بن چکا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو دنیا بھر میں خوراک کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ بھوک کے خاتمے اور محفوظ و متوازن غذائیت تک ہر انسان کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

10:01 شام مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔