پاکستان میں خفیہ ہاتھ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے انہیں دہرانا چاہتے ہیں ۔ علامہ سید حسن ظفر نقوی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان سید حسن ظفر نقوی نے کہا ہے کہ مو جودہ ملکی حالات کے تناظر میں ہمیں غلطیاں دہرانے کی بجائے ما ضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ،افغان وار میں پاکستان نے ہزیمت اٹھائی اور یورپ و امریکہ نے اپنا سار ملبہ ہم پر ڈالتے ہوئے ہمیں دہشت گردی کی ایسی دلدل میں پھنسایا کہ اس سے جتنا بھی نکلنا چاہہیںاتنا ہی اور پپھنستے جاتے ہیں ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی دفتر میں اپنےاعزار میں دیئےگئےعشائیہ کے بعد میڈیا سیل کے ارکان سے بات چیت کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ اب ایک بار پھر ایسا نظر آرہا ہے کہ انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے تاکہ مغربی دنیا کو ان کا ہوا دکھا کر اپنے وقتی مفادات کو حاصل کیے جا سکیں ، حقائق یہ ہیں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کسی بھی زمانے میں ، کسی بھی خطہ زمین میں مسائل کا حل ثابت نہیں ہوئی ، پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اور مخلص اقدامات کی ضرورت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم روس کی لڑائی کی طرح ایک آگ سے نکل کر دوسری آگ میں کود پڑیں اور وہ پہلے سے بھی زیادہ سخت ہو ، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے عوام صاف طور پر محسوس کر رہے ہیں کہ وہ غیر محفوظ ہیں اور ایک بڑی جیل میں قید ہیں جبکہ دہشت گرد کراچی سے پشاور تک آزاد ہیں اور جو بند تھے انہیں آزاد کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ ایسی صورت حال میں اپنی تاریخی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں ہر قسم کی انتہا پسندی کا خاتمہ ہو اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر جو حکومت کے تمام اداروں میں نفوذ پیدا کر چکے ہیں اداروں کوان سے پاک کیا جائے ورنہ اس کے بہت بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں میمو گیٹ سکینڈل کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا کہ یہ سکینڈل کوئی نئی بات نہیں ، امریکہ کے سامنے ہمارے حکمرانوں کا رویہ ہمیشہ سے ہی غلامانہ رہا ہے ، یہ اور بات ہے کہ یہ سکینڈل ایسے وقت میں سامنے لایا گیا جب امریکہ پاکستان پر مزید دبائو بڑھانا چاہتا ہے ، انہوں نے کہا کہ آج ساری دنیا بالخصوص عالم اسلام میں جو تحریکیں چل رہی ہیں وہ در اصل امریکی تسلط سے آزادی کی تحریکیں ہیں اور ہمارے مذہبی و سیاسی راہنمائوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کہ اسلامی دنیا تبدیلی کے دہانے پر ہے لہٰذا پاکستان بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔







