شہروں کے عالمی دن پر غزہ، بیروت، سری نگر کیوں نظر انداز؟ علامہ سید ساجد علی نقوی
شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ’’شہروں کی تجدید، سب کیلئے موزوں رہائش‘‘ کے ماٹو کے ساتھ عالمی دن منایا جا رہا ہے مگر غزہ سٹی جو کبھی جدید شہروں میں شمار ہوتا تھا آج کھنڈرات میں بدل چکا ہے، بیروت جو ترقی کے زینے عبور کر رہا تھا آج بیرونی جارحیت کا شکار ہے، سری نگر جسے عالمی سفارت کاری سے سیاحت تک منفرد مقام حاصل تھا آج خوف و ہراس کی لپیٹ میں ہے، اور کئی دیگر تاریخی اہمیت کے حامل شہروں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاہور اور کراچی سمیت بین الاقوامی شہروں کو ایک طرف ماحولیاتی تبدیلیوں اور سموگ کے خطرات اور دوسری جانب امن و امان اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے مسائل کا سامنا ہے، عام آدمی آج شہروں میں اشیائے ضروریہ کی سکت تک سے محروم ہے اور بڑی آبادی بے گھر اور بے روزگار ہے، تو ایسی صورت میں موزوں رہائش کا عنوان کیسے اپنی جگہ بنائے گا؟
شہروں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری کے بعد سے ہر سال منایا جا رہا ہے اور اس سال اس کا تھیم ’’شہروں کی تجدید، موزوں رہائش‘‘ ہے، جس کے ذریعے بین الاقوامی اداروں اور ممالک کو شہری آبادیوں کی مناسب دیکھ بھال اور دیگر رہائشی سہولتوں کی جانب متوجہ کیا گیا ہے، اور ایک سماجی دن کے طور پر اس کا منایا جانا خوش آئند ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کشمیر و فلسطین کا حل نہ ہونا عالمی بدامنی کی بڑی وجہ، علامہ سید ساجد علی نقوی
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ دوسری جانب فلسطین، شام، لبنان، عراق، ایران، افغانستان اور کشمیر میں ہنستے بستے تاریخی شہروں اور جدید ترین ترقی یافتہ ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا گیا اور ایسے اقدامات کیے گئے کہ انسانیت شرما جائے۔ فقط غزہ کی مثال لیں تو اس ہنستے بستے شہر، اس کے انفراسٹرکچر، اسپتالوں، اسکولوں، مساجد، گرجا گھروں، میڈیا ہاؤسز حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے دفاتر اور امدادی کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، مگر افسوس کہ اس تباہی کے بعد ایک پیچیدہ معاہدہ سامنے آیا جس پر جشن منایا گیا اور آج پھر غزہ میں بارود کی بو اور صدائے ماتم و احتجاج ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عالمی ضمیر غزہ کے بعد بیروت جیسے شہروں کیلئے کیوں نہیں جاگتا جہاں جنگ کے علاوہ انارکی اور افراتفری پھیلانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور دنیا کے بین الاقوامی شہروں میں شمار ہوتے ہیں مگر دارالحکومت کے قدرتی حسن کو نہ صرف گہنا دیا گیا بلکہ یہاں کے باسی بھی عدم تحفظ، نان شبینہ سے محرومی اور بے روزگاری کا شکار ہیں اور بڑی تعداد اپنی چھت سے محروم ہے، ایسے حالات میں ’’شہروں کی تجدید، موزوں رہائش‘‘ کے ماٹو کے ساتھ شہروں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ فقط شہروں کے دن نہ منائے جائیں بلکہ شہروں اور شہریوں کے حقوق کو بھی مدنظر رکھا جائے۔







