آیت اللہ معتوق کی سزائے موت کا فیصلہ ظالمانہ ہے، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم
شیعیت نیوز : جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے کویت میں ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ حسین معتوق کو سزائے موت سنائے جانے کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے ان کے مقدمے کی فوری تحقیق اور ان کی اور ان کے ساتھیوں کی جان اور حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں جامعہ مدرسین نے کہا کہ کویتی حکام کی جانب سے آیت اللہ معتوق اور ان کے بھائیوں کے خلاف سنایا جانے والا ظالمانہ فیصلہ خطے میں علمائے کرام اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کو نشانہ بنانے کی ایک منظم کارروائی شمار ہوتا ہے، جبکہ سزائے موت کے فیصلوں میں لاپروائی اور مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھنا بڑے گناہوں اور غضب الٰہی کا موجب ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شیعوں کے خلاف ظالمانہ فیصلوں پر حریت پسند خاموش نہیں رہیں گے، آیت اللہ رمضانی
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام دستیاب صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں تاکہ ملزمان کے حقوق کی ضمانت، انسانی خون کی حرمت کا تحفظ اور شرعی اصولوں اور قوانین کے مطابق انصاف یقینی بنایا جا سکے۔
اس سے قبل سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ اعرافی نے بھی اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شیعوں کی مذہبی شناخت اور حقوق پر حملہ قرار دیا تھا اور کویتی حکومت سے فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ کویت کی ریاستی سلامتی کی عدالت نے 26 اکتوبر کو تین افراد کو سزائے موت سنائی جن میں آیت اللہ معتوق بھی شامل ہیں، اور یہ فیصلہ ابھی حتمی نہیں۔







