سعودی دعوے پر طاہر اشرفی یمنیوں کو دہشت گرد کہنے لگے، یمنی شہداء پر خاموشی

31 اکتوبر, 2026 14:25

شیعیت نیوز : سعودی رجیم کے حامی پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے جمعہ 30 اکتوبر کی رات سوشل میڈیا پر جاری دو بیانات میں مدینہ منورہ پر حملے کے سعودی دعوے کو بنیاد بنا کر یمن کی مزاحمتی تحریک انصاراللہ کو ’’حوثی دہشت گرد‘‘ قرار دیا، دعویٰ کیا کہ مکہ مکرمہ کے بعد اب مدینہ منورہ کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور سعودی قیادت اور اس کے دفاعی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔

اسی رات جماعت اہل حدیث پاکستان کے امیر حافظ عبدالغفار روپڑی نے بھی رابطہ عالم اسلامی کے آفیشل پیج پر شائع اپنا بیان شیئر کیا جس میں انصاراللہ کو ’’حوثی دہشت گرد ملیشیا‘‘ کہا گیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سعودی اتحاد کے اپنے بیانات میں مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی جانب صرف ایک ایک ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ حافظ طاہر اشرفی نے اسے میزائل حملہ بنا کر پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی رجیم کو ملنے والی صیہونی انٹیلیجنس پر خاموشی، یمن مخالف خطبے نے طاہر اشرفی کا دوہرا معیار بے نقاب کر دیا

یمنی مسلح افواج نے مدینہ منورہ کی فضا میں ڈرون مار گرانے کے سعودی دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہوں نے جمعہ کو سعودی عرب کے اندر کسی ہدف کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، اور صنعاء پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ آل سعود اپنی جارحیت کے جواز کے لیے حرمین شریفین کا نام استعمال کر رہی ہے۔

دوسری جانب یمنی وزارت صحت کے مطابق انہی 24 گھنٹوں میں سعودی جارحیت سے 14 یمنی شہری شہید اور 15 زخمی ہوئے جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں، جبکہ یمنی مسلح افواج نے اسی عرصے میں 93 سعودی فضائی و میزائل حملوں کی تفصیل جاری کی، مگر ان مظلوم شہداء پر سعودی نواز مولویوں کی زبان سے مذمت کا ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ حرمین شریفین کے نام پر مظلوم یمنی قوم کو دہشت گرد قرار دینے کا یہ بیانیہ وہی ہے جسے پاکستان میں تکفیری عناصر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

3:41 شام اکتوبر 31, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔