بحرین میں دینی سرگرمیوں پر پابندیاں شریعت پر حملہ ہیں، آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم

27 اکتوبر, 2026 10:01

شیعیت نیوز : اسلامی تحریک بحرین کے رہنما آیت اللہ شیخ عیسیٰ احمد قاسم نے بحرین کی آل خلیفہ رجیم کے ان نئے فیصلوں کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے جو اسلامی شریعت کے احکام پر عمل درآمد کو محدود کرتے ہیں، اور ان فیصلوں سے فوری اور واضح دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے محض بعض دینی سرگرمیوں کو منظم کرنے تک محدود نہیں بلکہ شرعی واجبات کی ادائیگی کو ہی حکومتی منظوری سے مشروط کر دیتے ہیں، جو دین اور اس کے احکام کے حق پر حملے کے مترادف ہے۔

بیان کے مطابق تبلیغ اور تقریر سمیت بعض دینی فرائض کی انجام دہی کے لیے ابتدائی طور پر دو سالہ اجازت نامہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد ان سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے دوبارہ باضابطہ سرکاری اجازت نامے کی درخواست دینا ہوگی۔ آیت اللہ عیسیٰ قاسم نے کہا کہ یہ اقدام نہ کوئی امتیاز ہے اور نہ ان شعبوں سے وابستہ افراد کو تسلیم کرنے کا عمل، بلکہ مقررہ مدت کے بعد ان کے فرائض کی ادائیگی روکنے کے سرکاری اختیار کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آلِ خلیفہ حکومت کا دین مخالف راستہ ملکی وجود کے لیے شدید خطرہ ہے، علمائے بحرین کا انتباہ

انہوں نے ان فیصلوں کو اللہ تعالیٰ کے حق، دین مبین اسلام کے احکام اور قرآن کریم سے صریح متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات دینی سرگرمیوں کی خودمختاری اور علماء و دینی مدارس کے شرعی کردار کو متاثر کرتے ہیں، اور مطالبہ کیا کہ اگر یہ فیصلے ان کے نتائج سے ناواقفیت کی بنا پر کیے گئے ہیں تو ان پر نظرثانی کر کے انہیں فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

آیت اللہ عیسیٰ قاسم نے خبردار کیا کہ ان فیصلوں کی حقیقت اور تباہ کن اثرات واضح ہو جانے کے بعد بھی ان پر عمل درآمد پر اصرار خطرناک نتائج کا باعث بنے گا، اور زور دیا کہ اس مسئلے کو اس طرح حل کیا جائے کہ شریعت کے احکام کی حرمت محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ کے واجب کردہ امور کو محدود نہ کیا جا سکے۔

10:58 صبح اکتوبر 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔