کشیدگی میں کمی کے سعودی دعوے جھوٹے ہیں، محمد علی الحوثی

27 اکتوبر, 2026 10:55

شیعیت نیوز : یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرنے سے متعلق سعودی وزارت خارجہ کے دعوے یمن کے خلاف جاری قتل و غارت، محاصرے، حملوں اور قبضے سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی رجیم کو عملی طور پر حملے بند کرنے، یمن کا محاصرہ ختم کرنے اور یمنی سرزمین سے نکلنے کے اقدامات کرنے چاہییں، جبکہ 2015 سے جاری جارحیت کے دوران یمن میں ہونے والی تباہی کے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جانا چاہیے۔

محمد علی الحوثی نے کہا کہ مکہ مکرمہ کے دفاع کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کے ذریعے آل سعود کو امن پسند ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ وہ یمن پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اور انہوں نے مصری فوج کو نئی جنگ میں دھکیلنے سے بھی خبردار کیا جو صحرائے سینا سے متعلق صیہونی منصوبوں کی تکمیل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی جارحیت کے خلاف متنوع اور حیران کن آپشنز موجود ہیں، مہدی المشاط

انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نئے اتحاد سے خوف نہیں، تاہم ایسے اتحاد صیہونی دشمن کے مقابلے کے لیے استعمال ہونے چاہییں، کیونکہ نام نہاد مکہ اتحاد خطے میں امریکی سامراج اور صیہونی حکومت کے تسلط پسندانہ منصوبوں کی خدمت کر رہا ہے، اور اس کی کوششیں فلسطین کے دفاع کے لیے وقف ہونی چاہییں۔

آبنائے باب المندب سے متعلق محمد علی الحوثی نے کہا کہ ہم اس گزرگاہ کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کے محافظ ہیں، اور واضح کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے بلکہ آزادی، خودمختاری اور ایسا حقیقی امن چاہتے ہیں جو ہمارے ملک، عوام اور امت کے مفادات کا تحفظ کرے۔

11:49 صبح اکتوبر 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔