مغربی کنارے کی مکمل ناکہ بندی اجتماعی سزا ہے، اقوام متحدہ انسانی حقوق دفتر

24 اکتوبر, 2026 14:16

شیعیت نیوز : اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے کہا ہے کہ غاصب اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی مکمل ناکہ بندی فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔ دفتر کی ترجمان نے کہا کہ یہ بندش الخلیل میں فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد نافذ کی گئی، جس کے بعد شہر کے داخلی راستے اور مسجد ابراہیمی بند کر دیے گئے۔

انسانی حقوق دفتر کے مطابق اس ناکہ بندی سے زیتون کی فصل کی کٹائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جبکہ اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں میں صیہونی آبادکاروں نے 160 سے زائد حملے کیے، جن میں یورپی یونین کے سفارت کاروں اور ایک صحافی پر حملے بھی شامل ہیں۔ دفتر نے مغربی کنارے کی صورتحال کو تسلط اور نسلی امتیاز کا نظام قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : خان یونس میں ایندھن کے ڈپو پر غاصب اسرائیل کا فضائی حملہ، 4 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی

دوسری جانب الخلیل کا صیہونی محاصرہ جاری ہے۔ شہر کی بلدیہ کے مطابق الجلدہ اور دیر بحہ کے علاقوں سے سینکڑوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ الجلدہ میں تقریباً 300 خاندانوں کو جبری بے دخلی کا سامنا ہے۔

صیہونی فوج نے دورا میں فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران کارروائیاں کیں، العروب کیمپ اور الشیوخ پر دھاوے بولے اور رہا ہونے والے متعدد فلسطینی قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ شمالی مغربی کنارے میں بھی کم از کم 15 قصبوں پر صیہونی فوج نے چھاپے مارے۔

3:20 شام اکتوبر 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔