آلِ خلیفہ حکومت کا دین مخالف راستہ ملکی وجود کے لیے شدید خطرہ ہے، علمائے بحرین کا انتباہ

15 ستمبر, 2026 10:34

شیعیت نیوز : بحرین کے جید علمائے کرام نے آلِ خلیفہ حکومت کی جانب سے دین مخالف پالیسیوں اور اوقافی معاملات میں کھلی مداخلت پر شدید انتباہ جاری کرتے ہوئے اسے ملکی وجود، مذہب، اعتقادات اور دینی شعائر کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ اپنے ایک مشترکہ بیانیے میں علمائے بحرین نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی اور بہتری کی جانب گامزن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اللہ کے مستحکم دین اور احکامات کا مخالف ہو۔

اعلامیے میں حکومت کے اس خطرناک اور غیر شرعی اقدام کی شدید مذمت کی گئی ہے جس کے تحت اوقافِ جعفریہ، حسینیہ، امام بارگاہوں، مساجد اور قبرستانوں کے معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ان کی تولیت کو ایک سرکاری کونسل کے ماتحت کر دیا گیا ہے، جس کی سربراہی ایک حکومتی وزیر کے پاس ہے۔ علمائے کرام نے واضح کیا کہ یہ قدم شرعی ولایت کے خلاف ایک جارحانہ اقدام ہے اور ان شرائطِ وقف کی کھلی خلاف ورزی ہے جو شرعی لحاظ سے لازم الاتباع ہیں۔ یہ دہائیوں سے جاری اس موروثی نظام کو تباہ کرنے کی سازش ہے جس کے تحت اوقاف کو غیر شرعی سرکاری پالیسیوں کے تسلط سے آزاد رکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو بھاری نقصان، اخراجات 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، پینٹاگون کی خفیہ رپورٹ بے نقاب

علمائے بحرین نے دینی سرگرمیوں، تبلیغ، وعظ و نصیحت اور تعلیم و تعلم کو سرکاری لائسنس اور اجازت سے مشروط کرنے کے ظالمانہ فیصلے کو دین کے گلے میں طوق ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ درست طرزِ عمل یہ ہے کہ حکومت دین کے تابع ہو، نہ کہ دین کو حکومت کے تابع کر دیا جائے۔ یہ اقدام ملک میں مذہبی آزادی اور موروثی روایات کے بھی سراسر منافی ہے۔

علماء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عقل و تدبر کا راستہ اختیار کرے اور ان تمام فیصلوں کو فوری طور پر منسوخ کرے۔ بیانیے کے آخر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ملکی مسائل کا حل عوام کے حقوق سلب کرنے، ان کی عزت و کرامت کو پامال کرنے اور دینی آزادی چھیننے میں نہیں بلکہ عدل و انصاف کے قیام اور عوام کو ان کے سیاسی، معاشی اور مذہبی حقوق کی مکمل ضمانت دینے میں مضمر ہے۔

11:24 صبح ستمبر 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔