یمن پر فیصلہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر ہوا، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
شیعیت نیوز : سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وائس چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سوال اٹھایا ہے کہ یمن کے حوالے سے جو "مکہ اکارڈ” کیا گیا، وہ کس پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا؟ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان سعودی عرب اور یمن کے تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے بغیر اور اِن کیمرہ بریفنگ دیے بغیر فیصلہ کر لیا گیا، ایسے فیصلوں کے پاکستان کے قومی مفاد اور قومی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خود کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتی، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آئین اور قانون کی طرف واپس آیا جائے، پارلیمنٹ کو سپریم بنایا جائے اور تمام ملکی فیصلے وہیں ہوں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو یاد دلایا کہ جس طرح اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے تمام جماعتوں نے مل کر آرٹیکل 58 ٹو بی کو محض دو دن میں ختم کر کے اصلاح کی تھی، اسی طرح اب بھی آئین کی طرف واپسی کا سفر اختیار کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : انصار اللہ باغی نہیں بلکہ حسنی سادات ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
اس سے قبل جمعہ کو ایوان بالا میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مشرق وسطیٰ کی نازک صورتحال پر ایوان کو تفصیلی بریفنگ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کئی علاقے جنگ کی لپیٹ میں ہیں، باب المندب پر یمن اور سعودی عرب کے مابین شدید جنگ ہو رہی ہے اور توانائی کا مسئلہ مزید سنگین ہوگا، اس لیے حکومت کو اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے پنجاب میں آٹے کی قلت، ایل پی جی کی بڑھتی قیمتوں اور سردیوں کے باوجود لوڈشیڈنگ میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگائی کی دلدل میں چلے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل سینیٹ سے خطاب میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ انصار اللہ باغی نہیں اور پاکستان کو اس جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔







