یمن پر مسلط جنگ آل سعود کے گلے پڑ گئی، سعودی عرب معاشی تباہی کے دہانے پر

12 اکتوبر, 2026 19:42

شیعیت نیوز : معروف امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اپنی ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ یمن کے مظلوم عوام پر مسلط کردہ طویل اور بے نتیجہ جنگ آل سعود کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ جنگ کے بے تحاشا اخراجات کی وجہ سے سعودی عرب کے بجٹ خسارے میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور ملک کو بدترین معاشی کساد بازاری کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یمن کی جانب سے جوابی اور دفاعی کارروائیوں کے خوف نے سعودی عرب کے سیاحتی منصوبوں کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ رواں سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری توقعات سے کہیں کم رہی ہے۔ معاشی بحران کے باعث ولی عہد محمد بن سلمان کے کئی ملٹی بلین ڈالر منصوبے روک دیے گئے ہیں، یہاں تک کہ ریاض نے 2029 کے ایشیائی سرمائی کھیلوں کی میزبانی کی تیاریاں بھی ترک کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عراقی حزب اللہ کا یمن کی دفاعی کارروائیوں کی حمایت کا اعلان

فوجی کمزوریوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے وال اسٹریٹ جرنل نے مزید بتایا کہ سعودی حکام کے اعتراف کے مطابق، یمنی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب ہے۔ سعودی عرب کے پاس اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ اپنے پورے رقبے کو فضائی دفاعی نظام (Air Defense) کے ذریعے تحفظ فراہم کر سکے، جس کی وجہ سے سعودی حکومت اپنے محدود دفاعی وسائل صرف شاہی محلات اور توانائی (تیل) کی تنصیبات کی حفاظت پر مرکوز کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

شدید خوف و ہراس کے شکار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حوالے سے اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ وہ سخت حفاظتی انتظامات کے تحت زیر زمین پناہ گاہوں (Bunkers) سے لیس محلات کے درمیان ہی نقل و حرکت کر رہے ہیں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کا انتخاب بھی انتہائی چھان بین کے بعد کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، خطے میں اپنی بدلتی ہوئی حثیت کو بھانپتے ہوئے بن سلمان نے اپنے مشیروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ سیاسی رابطوں کے ذرائع ہر صورت کھلے رکھیں۔

8:41 شام اکتوبر 12, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔