مولانا اللہ وسایا کی ‘احتساب ناصبیت’ قابل قدر، مگر غیر معمولی خوش فہمی کیوں؟

09 اکتوبر, 2026 07:44

شیعیت نیوز : معروف دانشور اور تجزیہ کار ڈاکٹر سید جاوید حسین شیرازی نے مولانا اللہ وسایا کی مرتب کردہ کتاب ’احتسابِ ناصبیت‘ پر اپنے ایک تفصیلی مقالے میں واضح کیا ہے کہ اس کتاب نے تکفیری حلقوں کے قائم کردہ تقدیسی تصورات کے لیے ایک بڑا فکری چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ وسایا نے مکتبِ دیوبند کے اکابرین کی ان تحریروں کو یکجا کیا ہے جن میں معاویہ کے تاریخی کردار پر حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر شیرازی نے شیعہ حلقوں کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ وہ اس کتاب کی اشاعت پر مصنف کے حوالے سے کسی غیر معمولی خوش فہمی کا شکار نہ ہوں، کیونکہ انہوں نے کوئی نیا عقیدتی موقف پیش نہیں کیا، بلکہ محض اپنے مکتب کے اندر موجود تاریخی تعارضات کو واضح کیا ہے۔

ڈاکٹر شیرازی نے نشاندہی کی کہ معاویہ کا سیاسی کردار، جنگ صفین، امام حسن مجتبیٰؑ کے قتل میں مبینہ شمولیت اور حضرت عمار یاسرؓ کی شہادت جیسے تاریخی حقائق اس قدر واضح ہیں کہ تکفیری عناصر کو آج دوہرے تعارض کا سامنا ہے۔ ایک طرف ان کا من گھڑت تقدیسی بیانیہ رسول اللہ (ص) کی ان احادیث (جیسے عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا جو انہیں جہنم کی طرف بلائے گا) سے متصادم ہے، تو دوسری جانب ان کے اپنے اکابرین کے مواقف سے بھی ہم آہنگ نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عقل سلیم اہل بیتؑ سے محبت کے دعوے اور ان پر ظلم کرنے والوں سے قلبی وابستگی کو ایک ساتھ تسلیم نہیں کر سکتی۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی میڈیا کا دعویٰ: پاکستانی طیارے یمن جنگ میں شامل، عوام میں شیدید غم و غصہ

اپنے تجزیے میں انہوں نے مزید لکھا کہ کسی تاریخی شخصیت پر تنقیدی کتاب پیش کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ مصنف کا مجموعی مذہبی اور کلامی موقف تبدیل ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر شیرازی نے یاد دہانی کرائی کہ اللہ وسایا متعدد مواقع پر شیعہ کے کفر کے موقف کو تسلیم کر چکے ہیں، لہٰذا جو شخص بنیادی سطح پر شیعہ کو اسلام سے خارج سمجھتا ہو، محض ایک کتاب کی بنیاد پر اس سے فکری قربت کی توقع رکھنا درست نہیں۔ یہ کتاب دراصل اہل سنت کے داخلی فکری اضطراب کو کم کرنے کی ایک کاوش ہے، جسے شیعہ فکر کی طرف پیش قدمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کتاب کا مطالعہ کیا جانا چاہیے لیکن علمی احترام اور تاریخی اعتراف کو اعتقادی اعتماد کے توازن کے ساتھ پرکھنا انتہائی ضروری ہے۔

8:22 صبح اکتوبر 9, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔