یمنی ہیکر گروپ ‘اویس قرنی’ کا سعودی انٹیلی جنس کے 500 سے زائد افسران کا خفیہ ڈیٹا افشا کرنے کا اعلان
اویس قرنی ہیکر گروپ
شیعیت نیوز : یمن کی مسلح افواج کی سائبر ڈیفنس تنظیم سے وابستہ مشہور ہیکر گروپ ‘اویس قرنی’ نے ایک تہلکہ خیز اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عنقریب سعودی انٹیلی جنس سروس کے 500 سے زائد اعلیٰ افسران اور اہلکاروں کی مکمل اور خفیہ معلومات عوام کے سامنے جاری کر دے گا۔ اس متوقع افشائے راز کو سعودی عرب کی بیرونی انٹیلی جنس سروس کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی معلوماتی دراندازی اور دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ہیکر گروپ کی جانب سے جاری کی جانے والی اس حساس معلومات میں سعودی انٹیلی جنس افسران کے حقیقی نام، موبائل فون اور دفاتر کے براہ راست نمبرز، گھروں کے پتے، عہدے، زیر کارروائی حساس فائلیں، تنظیمی اور انتظامی ڈھانچہ، اور خطے کے مختلف ممالک میں قائم آپریشنل اسٹیشنوں کی مکمل فہرست شامل ہوگی۔ اویس قرنی گروپ نے اپنے بیان میں سعودی رجیم کا تمسخر اڑاتے ہوئے سوال کیا ہے کہ جو حکومت اپنے سکیورٹی افسران کا حساس ترین ڈیٹا تک محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، وہ خطے کی قیادت کا کھوکھلا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی جانب سے قطری ثالث کے ذریعے اہم تجویز موصول ہوئی ہے، علاء الدین بروجردی
انصار اللہ کی سائبر ڈیفنس تنظیم اور اویس قرنی ہیکر گروپ نے مزید انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان سعودی افسران نے حالیہ مہینوں میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ اور اپنے اماراتی اتحادیوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعاون کیا ہے۔ ان افسران کے مشتبہ غیر ملکی سفر اور منظم آمد و رفت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی عرب آنے والے ہفتوں میں خطے میں نئی کارروائیوں اور تخریبی منصوبوں کی تیاری کر رہا ہے۔
ان سائبر گروپوں کے پیغام میں ایک اور سنسنی خیز دعویٰ سامنے آیا ہے جس میں ایک سعودی شہری اور مبینہ انٹیلی جنس افسر ‘فہد بن ہلیل بن سبھان المطیری’ کے حالیہ خفیہ دورہِ بلوچستان (پاکستان) کا انکشاف کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سعودی عہدیدار نے خطے اور بلوچستان میں سرگرم بعض دہشت گرد گروہوں کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ ایک خفیہ اجلاس میں شرکت کی تھی، اور یمنی سائبر گروپوں نے اس پورے اجلاس کی کارروائی کو ابتدا سے اختتام تک کامیابی کے ساتھ ریکارڈ کر لیا ہے۔







