امریکی فوجیوں کا انخلا مذاکرات نہیں بلکہ اسلامی مزاحمت کا نتیجہ ہے، آیت اللہ سید یاسین موسوی
آیت اللہ سید یاسین موسوی
شیعیت نیوز : بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین موسوی نے 2 اکتوبر 2026ء کو اپنے سیاسی خطبے میں عراق سے امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے مکمل انخلا کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ماضی کے تلخ تجربات کی بنا پر عراقی عوام امریکی وعدوں پر مکمل اعتماد نہیں کرتے اور دشمن کی چالوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔
آیت اللہ موسوی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکی فوجیوں کا انخلا صرف مذاکرات یا عراقی حکومت کی درخواست کا نتیجہ ہرگز نہیں تھا، بلکہ یہ اسلامی مزاحمت کی ان مسلسل کارروائیوں کا ثمر ہے جنہوں نے امریکی اڈوں اور فوجی مراکز کو نشانہ بنا کر انہیں عراق سے نکلنے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق اگر مزاحمت کی طاقت نہ ہوتی تو غاصب امریکی فوج کبھی عراق سے واپس نہ جاتی۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے مسلمانوں پر کفر کے فتوے امریکی ایجنڈا، غزہ پر خاموشی شرمناک ہے، علامہ زاہد حسین انقلابی
امام جمعہ بغداد نے مزاحمت کو کمزور کرنے یا اس کے ہتھیاروں کو غیر اہم قرار دینے کی سازشوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عراق دوبارہ بیرونی دباؤ کے سامنے کمزور ہو سکتا ہے اور امریکی فوجیوں کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حقیقی خودمختاری کی تعریف کرتے ہوئے واضح کیا کہ خودمختاری کا مطلب یہ ہے کہ عراق امریکہ، سعودی رجیم، ترکی، اردن یا ایران سمیت کسی بھی بیرونی ملک کے دباؤ کے بغیر اپنے فیصلے خود کرے اور عوام کی امنگوں کا احترام کرے۔
انہوں نے عراق کی طاقت کو عوام، مزاحمت اور ملکی سیاسی، اقتصادی و دفاعی صلاحیتوں پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آیت اللہ سید یاسین موسوی نے خطے کے مسائل، بالخصوص غزہ کے معاملے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی غیر متزلزل حمایت کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خودمختاری محض کوئی کھوکھلا نعرہ نہیں بلکہ عراقی عوام کے مفادات اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ایک عملی سیاسی موقف ہے۔







