یمن کے مسلمانوں پر کفر کے فتوے امریکی ایجنڈا، غزہ پر خاموشی شرمناک ہے، علامہ زاہد حسین انقلابی

03 اکتوبر, 2026 19:17

شیعیت نیوز : مجلس علماء اہل البیت پاراچنار کے صدر اور جامع مسجد بی بی زینب سلام اللہ علیہا مہورہ کے خطیبِ جمعہ، علامہ زاہد حسین انقلابی نے خطبہ جمعہ میں اعمال کی جواب دہی، غزہ اور یمن کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے متنازعہ مولوی طاہر اشرفی کی جانب سے یمن کے مسلمانوں کو کافر قرار دینے کے شرمناک بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے امریکی ایجنڈے کی تکمیل قرار دیا۔

انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں واضح کیا کہ انسان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ قیامت کے روز انسان کے اعمال پر چار بڑے گواہ یعنی اللہ تعالیٰ، مقرب فرشتے، زمین اور انسان کے اپنے اعضاء و جوارح گواہی دیں گے۔ انسان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ریکارڈ ہو رہا ہے، اس لیے ہر قول و فعل میں احتیاط اور آخرت کی جواب دہی کا احساس لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : معرفتِ اہلِ بیتؑ ہی ظلم کے مقابلے میں حق و مزاحمت کی اصل قوت ہے، آغا سید راحت حسین الحسینی

حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ زاہد حسین انقلابی نے یمن کے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی پر متنازعہ مولوی طاہر اشرفی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یمن میں انصار اللہ کے ساتھ زیدی، اثنا عشری اور سنی مسلمان شامل ہیں، انہیں کس اسلامی اصول کے تحت کافر قرار دیا گیا؟ انہوں نے واضح کیا کہ محض امریکی مفادات کی مخالفت کرنے پر مسلمانوں کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنے کے فتوے "امریکی اسلام” کی پیداوار ہیں، جنہیں ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔ حقیقی اسلامِ نابِ محمدیؐ توحید، رسالت اور امت کی وحدت کا نام ہے۔

خطبے کے دوران انہوں نے غزہ میں جاری صہیونی بربریت اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پر عرب حکمرانوں اور نام نہاد "علمائے حق” کی مجرمانہ خاموشی پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب غزہ کے ہسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری ہو رہی تھی، تب یہ نام نہاد ٹھیکیدار کہاں سو رہے تھے؟ انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر دوہرے معیار کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے کے بعض عرب ممالک کی منافقانہ پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا۔

8:23 شام اکتوبر 3, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔