غزہ کے مظلوموں کی حمایت؛ شہید سید حسن نصراللہ کا انسانی مؤقف
شہید سید حسن نصراللہ
شیعیت نیوز : گزشتہ برسوں کے دوران غزہ پر غاصب صیہونی حکومت کی نسل کشی اور وحشیانہ جرائم نے عرب و مسلم حکومتوں کو ایک تاریخی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ جہاں ایک طرف بے حس، مردہ ضمیر اور خائن عرب حکمرانوں نے غزہ کے مظلوموں پر ہونے والے مظالم سے منہ موڑ لیا اور مجرمانہ خاموشی اختیار کی، وہیں خطے کے ’’محورِ مقاومت‘‘ نے مظلوموں کی حمایت کی شاندار اور روشن مثالیں قائم کیں۔ حزب اللہ لبنان کے عظیم اور شہید سربراہ سید حسن نصراللہ، محورِ مقاومت کے مرکز میں ہمیشہ مظلوم فلسطینی قوم کے سب سے بڑے حامی اور پشتیبان بن کر کھڑے رہے اور طوفان الاقصیٰ کے بعد بھی ہر محاذ پر پیش پیش رہے۔
شہید سید حسن نصراللہ کا فلسطین کے حوالے سے مؤقف محض اتفاقی یا جذباتی نہیں تھا، بلکہ یہ گہرے انسانی، اخلاقی اور مذہبی اصولوں پر استوار تھا۔ انہوں نے غاصب صیہونی دشمن کی جانب سے قتل عام، جبری بے دخلی اور محاصرے کو پوری انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا۔ ایک بلند مرتبہ مذہبی رہنما کی حیثیت سے ان کا پختہ عقیدہ تھا کہ دینِ اسلام انسانوں کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور مظلوموں کی مدد کی دعوت دیتا ہے، خواہ اس راہ میں جان و مال کی کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف ظالمانہ محاصرے کی دوٹوک مخالفت کرتے ہیں، شیخ قیس الخزعلی کا دبنگ اعلان
انسانی اور مذہبی محرکات کے ساتھ ساتھ، شہید نصراللہ کا سیاسی مؤقف بھی انتہائی واضح تھا کہ فلسطینی قوم سے ان کی زمین، عزت اور آزادی کا حق چھیننا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کی یہ نظریاتی وابستگی صرف نعروں اور تقریروں تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے سیاسی، فوجی اور لاجسٹک سطح پر غزہ کی بھرپور عملی مدد کی جو بالآخر ان کی اور ان کے دیرینہ ساتھی شہید سید ہاشم صفی الدین کی عظیم شہادت پر منتج ہوئی۔ آج بے حس عرب ریاستیں اور عالمی استکباری قوتیں کتنی ہی متحد کیوں نہ ہو جائیں، شہید نصراللہ کا دکھایا ہوا مقاومت کا راستہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور عظیم قربانیوں کے بعد فتح اور نصرت کی صبح اب انتہائی قریب ہے۔







