انتخابات ہارنے کا خوف، نیتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، حامیوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل
بنیامین نیتن یاہو
شیعیت نیوز : صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیلی ٹیلی ویژن کے چینل 14 کو انٹرویو دیتے ہوئے آئندہ انتخابات کے متوقع نتائج کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شکست کے خوف میں مبتلا صیہونی وزیرِاعظم نے دائیں بازو کے سیاسی دھڑوں اور اپنے حامی ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں انتخابی مراکز پہنچ کر ووٹ کاسٹ کریں۔
اپنے سیاسی مخالفین پر الزامات عائد کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران، حماس اور حزب اللہ انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں اور انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف روایتی الزامات دہراتے ہوئے کہا کہ وہ تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : کے پی کے میں گورنر راج سنگین جمہوری غلطی ہے، علامہ مقصود ڈومکی
دائیں بازو کے ووٹروں کو متحرک کرنے اور بلیک میلنگ کی پالیسی اپناتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اگر حزبِ اختلاف کا اتحاد کامیاب ہو گیا تو اس کا مطلب غزہ اور لبنان سے فوج کی پسپائی، حکومت نواز میڈیا کا خاتمہ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو مغربی کنارے سے انخلاء اور فلسطینی ریاست کے قیام کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔
دوسری جانب، مقبوضہ فلسطین میں کرائے گئے حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، اسرائیل کے کسی بھی سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت ملتی نظر نہیں آ رہی، جس کی وجہ سے صیہونی ریاست میں شدید سیاسی تعطل اور گہری اندرونی تقسیم بدستور برقرار ہے۔







