اقوام متحدہ میں دہشت گرد نیتن یاہو کا خطاب، 77 ممالک کے واک آؤٹ نے غاصب اسرائیل کی سفارتی تنہائی بے نقاب کر دی

26 ستمبر, 2026 14:25

شیعیت نیوز : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں صہیونی وزیراعظم اور عالمی دہشت گرد بنیامین نیتن یاہو کی تقریر نے غاصب اسرائیل کی عالمی سطح پر بدترین سفارتی تنہائی اور رسوائی کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں غاصب ریاست کو ایک فاتح اور طاقتور کے طور پر پیش کرنے کی بھونڈی کوشش کی، لیکن کیمروں نے ہال میں موجود 77 ممالک کے وفود کے واک آؤٹ اور خالی نشستوں کا وہ منظر ریکارڈ کیا جس نے صہیونی غرور کو خاک میں ملا دیا۔

تفصیلات کے مطابق، غاصب اسرائیل کی غزہ میں جاری نسل کشی اور بربریت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے درجنوں ممالک کے وفود تقریر شروع ہونے سے قبل ہی ہال سے نکل گئے۔ اس ہزیمت پر بوکھلاہٹ کا شکار نیتن یاہو نے اپنی تقریر کا آغاز ہی واک آؤٹ کرنے والوں کو "اخلاقی بزدل” قرار دے کر کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عالمی بائیکاٹ صہیونی وزیراعظم کے اعصاب پر کس قدر سوار تھا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی و اسرائیلی حملوں نے تعلیم اور صحت کے مراکز کو تباہ کیا، ایرانی وزیر خارجہ

اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر 40 منٹ طویل تقریر میں جنگ کے خاتمے کی بات کرنے کے بجائے، نیتن یاہو نے ایران، قطر، ترکی اور دیگر ناقدین پر تنقید کے تیر برسائے اور غزہ میں نسل کشی کو "صدی کا جھوٹ” قرار دینے کی ڈھٹائی کی۔ تاہم، عالمی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم پر گرفتاری کے وارنٹ اور اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹس صہیونی ریاست کے جرائم کی کھلی گواہی دے رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ہال میں موجود خالی نشستیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ دنیا اب غاصب اسرائیل کا جھوٹا بیانیہ سننے کو تیار نہیں۔ درحقیقت، نیتن یاہو کی یہ چیخ و پکار عالمی برادری کے لیے نہیں بلکہ ایک ماہ بعد ہونے والے اسرائیلی انتخابات کے تناظر میں اپنے انتہا پسند ووٹرز کو محظوظ کرنے کی ایک مایوس کن کوشش تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں ناکامی اور عالمی سطح پر بائیکاٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا جھوٹا خمار اب اسرائیل کو سفارتی تنہائی کی گہری کھائی میں گرنے سے نہیں بچا سکتا۔

3:27 شام ستمبر 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔