امریکی و اسرائیلی حملوں نے تعلیم اور صحت کے مراکز کو تباہ کیا، ایرانی وزیر خارجہ
عراقچی
شیعیت نیوز : ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر عالمی ترقیاتی اقدام کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگوں، یکطرفہ پابندیوں اور جارحیت نے ترقی پذیر ممالک کے لیے غربت، بھوک اور نابرابری جیسے مسائل میں شدید اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دباؤ اور تنازعات کے ماحول میں ترقی ممکن نہیں، ترقی پذیر ممالک کو مزید دباؤ کے بجائے مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امریکہ کی جانب سے دہائیوں سے جاری یکطرفہ اور ظالمانہ پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں عام شہریوں کے خلاف ’اقتصادی دہشت گردی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت، مالی وسائل، ادویات اور سائنسی ترقی کو محدود کرنے والی یہ پابندیاں براہ راست ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہیں، لہٰذا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کے خلاف کھڑا ہو اور انہیں مکمل و غیر مشروط طور پر ختم کرائے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
سید عباس عراقچی نے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے چشم کشا حقائق بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان وحشیانہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد شہید ہوئے، جبکہ جنوبی شہر میناب کے پرائمری اسکول (جہاں 168 معصوم طلباء شہید ہوئے)، پاسچر انسٹی ٹیوٹ ایران اور صوبہ فارس کے لامرد کے اسپورٹس سینٹر جیسے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر کے تعلیم، صحت اور امید کے مراکز کو موت اور تباہی کے مناظر میں تبدیل کر دیا گیا۔







