طوفان الاقصی کے بعد صہیونی معیشت تباہی کے دہانے پر، سرکاری قرضہ 1.4 ٹریلین شیکل سے متجاوز
شیعیت نیوز : طوفان الاقصی آپریشن کے بعد گزشتہ تین برسوں کے دوران صہیونی حکومت کو شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے اور اس کے سرکاری قرضے کی مجموعی مالیت 1.4 ٹریلین شیکل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسرائیلی اخبار زیمان یسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، 2023 کے آغاز سے 2025 کے اختتام تک اسرائیلی حکومت کے عوامی قرض میں تقریباً 360 ارب شیکل یعنی 35 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث قرض اور مجموعی ملکی پیداوار کا تناسب 60 فیصد سے بڑھ کر 68.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اخبار کے مطابق، قرضوں میں اس تیز رفتار اضافے کی بنیادی وجہ غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف جنگیں، 7 اکتوبر 2023 کے بعد بڑے پیمانے پر شہریوں کی نقل مکانی اور دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ جنگی نقصانات کی تلافی، تعمیر نو، نیتن یاہو حکومت کی جانب سے اتحادی جماعتوں کو بھاری رقوم کی فراہمی اور ناقص مالیاتی انتظامات نے بھی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے جس کے باعث حکومت کو بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید بانڈز جاری کرنے پڑے۔
یہ بھی پڑھیں : سرکاری ٹی وی پر تکفیری دہشگرد اورنگزیب فاروقی پروموٹ، ریاست کی شیعہ دشمن پالیسی عیاں
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 1.4 ٹریلین شیکل کا یہ قرضہ مجموعی مالی بوجھ کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا، کیونکہ اس میں مستقبل کی پنشن اور قومی بیمہ سمیت 1.5 ٹریلین شیکل سے زائد کی وہ مالی ذمہ داریاں شامل نہیں جو حکومت کو ادا کرنی ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے قرض کے ساتھ سود کی ادائیگیوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے 2026 کے بجٹ میں صرف سرکاری قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے 64.6 ارب شیکل مختص کیے گئے ہیں، جو 2022 کے مقابلے میں 25 ارب شیکل زیادہ ہیں۔
زیمان یسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ قرض لینے کے اس تسلسل کے نتیجے میں حکومتی بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم، صحت یا بنیادی ڈھانچے کے بجائے سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہونے لگا ہے۔ اگر اسرائیل وسیع جنگی اخراجات، مذہبی مدارس کی فنڈنگ، اور کام نہ کرنے والے افراد کے لیے مراعات کا سلسلہ اسی طرح جاری رکھتا ہے، تو آنے والے برسوں میں اصل مسئلہ موجودہ قرض نہیں بلکہ وہ ناقابلِ برداشت مالی بوجھ ہوگا جس کی ادائیگی کا وعدہ حکومت مستقبل کے بجٹ سے کر چکی ہے۔







