مسئلہ فلسطین کا حتمی حل مزاحمت اور عوامی ریفرنڈم میں پوشیدہ ہے، علمائے کرام کا مشترکہ اعلامیہ

29 اگست, 2026 14:04

شیعیت نیوز : اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام تہران میں ”مسئلہ فلسطین کا حل“ کے عنوان سے ایک اہم عالمی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف ممالک کے نامور علمائے کرام اور دانشوروں نے شرکت کی۔ مقررین نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کی رائے کے ذریعے ریفرنڈم کا انعقاد ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت ہے، جبکہ اسلامی ممالک پر فرض ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمت کی بھرپور اور عملی حمایت کریں۔

عالمی اہل بیت اسمبلی کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری اور دیگر رہنماؤں نے واضح کیا کہ فلسطین میں انتخابات اور ریفرنڈم کا منصوبہ ایک اصولی اور منطقی حل ہے جو غاصب صیہونی حکومت کے سنگین جرائم کے خاتمے کا بہترین راستہ ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گرد امریکہ کے پیش کردہ نام نہاد منصوبے کبھی فلسطینیوں کے مفاد میں نہیں ہو سکتے، اور مسئلہ فلسطین کا حقیقی حل صرف مزاحمت ہے جو دشمن کو عوامی فیصلے کے سامنے جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سیرت النبیؐ کی روشنی میں نسل نو کی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے، علامہ عارف واحدی

اجلاس کے دوران لبنان، یمن اور دیگر ممالک کے نمائندوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ فلسطین کا دفاع کیا ہے، لیکن ریفرنڈم کے نفاذ کی بھاری ذمہ داری تنہا ایران پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ دیگر اسلامی ممالک کو بھی آگے آنا ہوگا۔ یمنی رہنماؤں نے واضح کیا کہ سخت ترین پابندیوں کے باوجود یمن کی سب سے بڑی ترجیح فلسطین کی حمایت ہے، جبکہ بعض علاقائی ممالک تاحال غاصب اسرائیل اور امریکی خطرات کی سنگینی کو سمجھنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔

علمائے کرام نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ امت مسلمہ آج کڑے امتحان سے گزر رہی ہے جبکہ متعدد مسلم حکمران اپنی بنیادی ذمہ داریاں فراموش کر کے محض دنیاوی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے تمام عالم اسلام کے علما اور عوام پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر میدان میں آئیں اور غاصب اسرائیل کے خلاف برسرپیکار فلسطینیوں کی آزادی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن مدد فراہم کریں۔

3:23 شام اگست 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔