ایران کے ساتھ کوئی سفارتی معاہدہ ممکن نہیں، غاصب صیہونی وزیر اعظم
نیتن یاہو
شیعیت نیوز : فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غاصب صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے دہشت گرد امریکی صدر سے گفتگو کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا سفارتی معاہدہ ہرگز ممکن نہیں ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک غیر قانونی صیہونی بستی میں خطاب کرتے ہوئے اس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
نیتن یاہو نے دہشت گرد ٹرمپ کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے انتہائی توہین آمیز اور غیر سفارتی زبان استعمال کی اور ہرزہ سرائی کرتے ہوئے سفارتی امکانات کو مسترد کر دیا۔ تاہم، اس نے ایران کے خلاف دہشت گرد امریکی صدر کی جانب سے شروع کی گئی نئی اقتصادی دباؤ کی مہم کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے فوجی کارروائی کا ایک مضبوط متبادل قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اور چین کے اسٹریٹجک تعلقات کسی کی اجازت کے محتاج نہیں، محمد باقر قالیباف
غاصب صیہونی وزیر اعظم کی جانب سے اس رعونت اور گستاخانہ زبان کا استعمال ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اس کے اور سابق وزیر جنگ یوآو گالانت کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔ ان دونوں پر غزہ میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد ہیں۔
واضح رہے کہ دہشت گرد ٹرمپ نے فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف غاصب اسرائیل کی مشترکہ جارحیت میں نیتن یاہو کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ تاہم، اپریل میں امریکہ کے اندر جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی شدید عوامی مخالفت اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث دہشت گرد امریکی صدر کو مجبوراً جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرنی پڑی تھی۔







