جولائی میں سعودی خام تیل کی امریکہ کو درآمدات صفر، 40 برسوں کا غیر معمولی ریکارڈ
سعودی تیل
شیعیت نیوز : امریکی محکمۂ توانائی کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں سعودی خام تیل کی امریکی درآمدات صفر رہیں، جو تقریباً چالیس برسوں میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ رواں سال کے آغاز میں امریکی ریفائنریاں روزانہ 8 لاکھ بیرل سے زائد سعودی خام تیل درآمد کر رہی تھیں، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، خلیج فارس میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یہ درآمدات مکمل طور پر معطل ہو گئیں۔
اسی تناظر میں امریکی آئل ریفائننگ کمپنی فلپس 66 نے بھی اپنی ریفائنریوں میں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے تیل کا حصہ کم کرکے ایک فیصد سے بھی نیچے کر دیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو سال کے آغاز میں تقریباً ایک لاکھ بیرل یومیہ تھیں، جبکہ اب بڑھ کر چھ لاکھ بیرل یومیہ کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قالیباف کا امریکہ کو طنزیہ جواب: دھمکیاں اور مذاکرات کا سیاسی ڈراما جاری ہے، ناکام پالیسی تبدیل کرو
واضح رہے کہ یہ صورت حال دہشتگرد ٹرمپ اور یزیدی سعودی رجیم کی ایران مخالف پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، جس نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھاوا دیا۔ محورِ مقاومت کی پائیداری اور آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نے عالمی تیل کی منڈیوں کو نئی سمت دے دی ہے، اور امریکہ کو متبادل ذرائع (جیسے وینزویلا) کی طرف رجوع کرنا پڑا ہے۔







