مصر کا یمن میں زمینی فوج بھیجنے سے انکار، سعودی رجیم کی درخواست مسترد

19 ستمبر, 2026 18:43

شیعیت نیوز : مصری حکومت نے یمن میں زمینی فوج بھیجنے کی سعودی رجیم کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یمن کے بحران کے حل کے لیے سیاسی راستے کو ترجیح دیتی ہے۔ لبنانی جریدے الاخبار کے مطابق قاہرہ نے یمن کے بحران کے حوالے سے اپنی پالیسی میں بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے انصار اللہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی سے گریز کیا ہے۔

باخبر ذرائع نے الاخبار کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں مصری اور سعودی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سعودی رجیم کے اقتصادی اور سکیورٹی استحکام پر توجہ دی گئی ہے اور تنازع کے پھیلاؤ کے خطرات کم کرنے کے لیے مذاکرات پر مبنی سیاسی حل پر زور دیا گیا ہے۔ مصر کے سعودی رجیم کے ساتھ وسیع اقتصادی تعلقات ہیں، جن میں تجارت اور سعودی رجیم میں مصری کارکنوں کی ترسیلاتِ زر شامل ہیں، تاہم قاہرہ خود کو وسیع علاقائی کشیدگی میں الجھنے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران امریکہ کو خطے سے باہر دھکیلنے کی صلاحیت ثابت کر رہا ہے، برطانوی اخبار ٹیلی گراف کا اعتراف

مصر کا موقف ہے کہ انصار اللہ کے خلاف جنگ میں شمولیت اسے بالواسطہ طور پر ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں لا سکتی ہے، جس کا غیر متوقع فوجی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ الاخبار کے مطابق مصر کو سعودی رجیم کی جانب سے یمن میں زمینی فوج بھیجنے کی تجویز پر خاص تشویش ہے، کیونکہ یمن جیسے پیچیدہ ماحول میں اس اقدام کے نتائج غیر یقینی ہوں گے اور محدود فوجی کارروائی کے مقابلے میں اس کا اختتام زیادہ مشکل ہو گا۔

قاہرہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یمن میں انصار اللہ سے متعلق خطرے کا خاتمہ صرف فضائی یا بحری کارروائیوں کے ذریعے ممکن نہیں ہے، اور سیاسی راستے کے بغیر فوجی کارروائیوں کا تسلسل حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

7:31 شام ستمبر 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔