اربعین واک روحانی سفر اور خود سازی کی راہ ہے: علی احمد پناہی
شیعیت نیوز : حوزہ اور یونیورسٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور علمی کمیٹی کے رکن علی احمد پناہی نے کہا ہے کہ اربعین واک محض ایک عظیم الشان اجتماع یا جغرافیائی سفر نہیں بلکہ ایک روحانی سفر اور معنوی ارتقا کی راہ کا عملی مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایسا سفر ہے جس میں زائر کے قدموں تلے زمین خود شناسی، خود سازی اور روح کی تعمیرِ نو کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ یہ راستہ صرف نجف اور کربلا کے درمیان رابطہ نہیں بلکہ حق کی متلاشی انسانیت اور انسانی کمال کی بلند ترین منزل کے درمیان ایک مضبوط رشتہ بھی قائم کرتا ہے۔
اس راستے پر اٹھنے والا ہر قدم جسمانی تھکن کے درجے سے بلند ہو کر روحانی بشارت کا ذریعہ بننا چاہیے۔ حقیقی زائر وہ نہیں جو صرف اپنے قدموں سے یہ راستہ طے کرے بلکہ وہ ہے جو اپنے دل سے بے جان قدموں کو معنویت اور زندگی عطا کرے۔ اگر یہ واک صرف جسمانی عبادت کے دائرے تک محدود رہے اور تزکیۂ نفس و باطنی پاکیزگی تک نہ پہنچے تو اس کا حاصل جسم پر جمی گرد کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اس لیے ہر زائر کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا اس کے قدم نفسِ امارہ سے دوری اختیار کرنے کے لیے اٹھ رہے ہیں یا نفسِ مطمئنہ کی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں : آیت اللہ اعرافی کی آیت اللہ اسحاق فیاض کے مزار پر فاتحہ خوانی
اس عظیم ضیافت میں "ادب” ہی وہ معیار ہے جو ایک عام راہ چلنے والے اور حقیقی زائر کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔ اربعین کا راستہ حضرت امام حسین علیہ السلام سے منسوب ایک مقدس حریم ہے۔ اس سفر میں اسلامی آداب و شعائر کی پاسداری کسی قانونی پابندی سے زیادہ ایک دینی ذمہ داری اور ایمانی احساس ہے۔
زائر کو چاہیے کہ اس سفر میں اپنی زبان کو غیبت، فضول گفتگو اور دنیاوی بے احتیاط کلام سے محفوظ رکھے کیونکہ ہر لفظ اس روحانی سفر کی معنوی فضا میں اپنا اثر چھوڑتا ہے۔ خوش اخلاقی، اخلاقی حدود کی رعایت، باوقار لباس اور دوسروں کے ساتھ عاجزی و انکساری کا برتاؤ اسی صبر و استقامت کا مظہر ہے جو کربلا میں جلوہ گر ہوئی تھی۔ زائر کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ حسینی کاروان کے بلند اہداف کی نمائندگی کر رہا ہے۔
اربعین واک اخلاقی امتحان کا میدان بھی ہے۔ جہاں تھکن، بھوک اور ہجوم انسان کے صبر کو آزماتے ہیں، وہیں دینی اخلاق کی حقیقی روح نمایاں ہوتی ہے۔
اس سفر میں دو اہم اخلاقی اصولوں کی پابندی ناگزیر ہے:
الف) ایثار اور درگزر: جس طرح اس راستے کے خدمت گزار بے مثال ایثار کے ذریعے کربلا کی یاد تازہ کرتے ہیں، اسی طرح زائر کو بھی اپنے غصے پر قابو پا کر اور اپنے ہم سفر افراد کے ساتھ محبت، شفقت اور درگزر کا رویہ اختیار کرتے ہوئے بلند اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ب) نظم و ضبط: مختلف مقامات پر قطار کی پابندی، عوامی حقوق کا احترام اور غیر ذمہ دارانہ رویوں سے اجتناب اسلامی عدل اور نظم و ضبط کا تقاضا ہے۔ بے نظمی اس مقدس تحریک کے حسن اور عظمت کو مجروح کرتی ہے۔
علی احمد پناہی نے اختتامیہ میں کہا کہ آئیے اس سفر میں صرف مسافر نہ بنیں بلکہ مہاجر بنیں۔ مہاجر وہ ہے جو اپنے ادنیٰ نفس سے بلند روحانی مقام کی طرف ہجرت کرتا ہے۔ آئیے وحی الٰہی کی تعلیمات اور اہل بیت علیہم السلام کی اخلاقی سنت سے رہنمائی لیتے ہوئے اس طرح قدم بڑھائیں کہ ہمارا ہر قدم اللہ تعالیٰ کے حضور تسلیم و رضا اور کمالِ حق کا اعتراف بن جائے۔ اربعین اس حقیقت کو ثابت کرنے کا بہترین موقع ہے کہ دین صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ ادب، اخلاق، دینی التزام اور اعلیٰ انسانی اقدار کے عملی اظہار کا نام ہے۔







