یمنی فوج کی بڑی کامیابی، مغربی ساحل پر جدید غیر ملکی ریڈارز اور نگرانی کے نظام قبضے میں لے لیے
جدید ریڈار
شیعیت نیوز : یمن کی مسلح افواج نے مغربی ساحل پر ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے امریکہ، نسل پرست قابض صہیونی رجیم اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے باغیوں کو فراہم کردہ جدید ترین نگرانی کے نظام اور سمندری ریڈارز بطور مال غنیمت قبضے میں لے لیے ہیں۔
ان جدید ترین غنائم میں نمایاں طور پر فرانسیسی نظام (Thales CoastWatcher 100) شامل ہے، جو مصنوعی ذہانت (AI) کے الگورتھم پر مبنی ہے اور 150 سمندری میل سے زیادہ فاصلے تک سمندری جہازوں کے مشکوک رویے کے ڈیٹا کا انضمام اور خودکار تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ جرمن نظام (Hensoldt Spexer / SharpEye) بھی قبضے میں لیا گیا ہے جو طوفانی پانیوں اور لہروں کی مداخلت کو عبور کر کے تیز رفتار کشتیوں اور تیرتی سمندری بارودی سرنگوں جیسے انتہائی چھوٹے اہداف کا پتہ لگانے کے قابل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امامیہ چیف اسکاؤٹ غیور عباس کا سندھ بوائے اسکاؤٹس ہیڈکوارٹر کا دورہ، سید اختر میر سے ملاقات
یمنی افواج کے قبضے میں آنے والے اس قیمتی مال غنیمت میں اسرائیلی کمپنی "التا” کا تیار کردہ موبائل ساحلی ریڈار (ELM-2226 ACSR) بھی شامل ہے، جو الیکٹرانک جنگی نظاموں کی نظروں سے بچے رہنے اور کم مداخلت کے امکان (LPI) کی جدید خصوصیت سے لیس ہے۔
مزید برآں، یمنی افواج نے حنیش اور زقر جزیروں کے اطراف سے زیرِآب حسگر نظام (Blue Whale) اور طویل فاصلے تک کام کرنے والے لیزر لیس حرارتی کیمرے (EO/IR) بھی حاصل کیے ہیں، جو رات کے اندھیرے میں جہازوں کے حجم کا تعین، ان کی شناخت اور ساحلی حرکات کی کڑی نگرانی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔







