رہبر شہید کی قربانی نے عالمِ اسلام میں نئی روح اور تجدیدِ اسلام کی ایک نئی لہر پیدا کی، علامہ شہنشاہ حسین نقوی
شیعیت نیوز : صدر جعفریہ الائنس پاکستان اور معروف پاکستانی خطیب علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے رہبر شہید کی تشییع اور نماز جنازہ کے سلسلہ میں اپنے ایران کے دورے کے دوران حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ عالم اسلام، مستضعفین، مظلوموں اور دنیا بھر کے کمزور طبقات پر عالمی و علاقائی استکبار، آمروں اور ظالم حکمرانوں نے عرصہ دراز سے ظلم و ستم مسلط کر رکھا ہے۔ آج دنیا میں طاقت، ٹیکنالوجی، وسائل اور عسکری قوت رکھنے والے خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں اور قومیت، نسل، زبان اور جغرافیے کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق پیدا کر کے ظلم و ناانصافی کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی طبقاتی اور استکباری سوچ دنیا میں عدم توازن اور ناانصافی کی بنیادی وجہ ہے۔ ان تمام بنیادی مسائل کا حقیقی حل اسلام کی تعلیمات میں موجود ہے۔ اسلام نے انسانیت کو ایک جامع سماجی اور معاشرتی نظام عطا کیا ہے، مگر اس نظام کو عملی شکل دینے کے لیے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے انقلاب اسلامی برپا کیا تاکہ کتابی اور نظری اسلام کو عملی زندگی میں نافذ کیا جا سکے۔
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رحمۃ اللہ علیہ نے اس انقلاب کو ایک نئی تازگی اور نئی روح عطا کی۔ اگر یہ کہا جائے کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے آ کر انقلاب برپا کیا اور رہبر شہید نے اپنی شہادت کے ذریعے اس انقلاب کو نئی زندگی بخشی، تو یہ حقیقت کے قریب ہے۔ امام خمینی کا انقلاب شعور، فکر اور بیداری کا انقلاب تھا جبکہ رہبر شہید نے اسے عملی میدان میں اپنے خون سے مزید استحکام عطا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر آج امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ موجود ہوتے تو وہی کرتے جو رہبر شہید نے کیا اور رہبر شہید نے بھی وہی راستہ اختیار کیا جو امام خمینی کا راستہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں : تکفیری قوتوں نے ہمیشہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے، علامہ اشفاق وحیدی
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ رہبر شہید کی جدائی ہمارے لیے انتہائی تلخ ہے لیکن ان کی شہادت نے عالم اسلام میں نئی روح، نئی توانائی اور اسلام کی تجدید کی ایک نئی لہر پیدا کی ہے۔ اس اعتبار سے یہ واقعہ امت مسلمہ کے لیے امید، بیداری اور استقامت کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مستقبل مستضعفین، مظلوموں اور محروم طبقات کا ہے، اور رہبر شہید نے اپنی شہادت کے ذریعے اس وعدۂ الٰہی کی بہترین عملی مثال پیش کی۔
علامہ نقوی نے گفتگو کے دوران علامہ محمد اقبال کے فارسی اشعار بھی نقل کیے، جنہیں رہبر معظم انقلاب اپنی تقاریر میں پڑھا کرتے تھے:
می شناسی معنای کرار چیست این مقامی از مقامات علی است امتان را در جہان بی ثبات نیست ممکن جز بہ کراری حیات
انہوں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب علامہ اقبال لاہوری کے افکار سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ رہبر معظم کی 1986ء میں تہران یونیورسٹی میں علامہ اقبال کی شخصیت پر کی گئی تاریخی تقریر کا اردو ترجمہ کیا، جسے بعد ازاں خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران نے شائع کیا اور اسے پاکستان میں بھی بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ رہبر معظم نے اس خطاب کے اختتام پر فرمایا تھا کہ اگر آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو ایرانی قوم کو شاباش دیتے اور کہتے کہ جن آرزوؤں اور خوابوں کا اظہار میں نے کیا تھا، انہیں ایرانی قوم نے عملی جامہ پہنا دیا ہے۔
آخر میں علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ میں ان تمام افراد، شخصیات اور مجاہدین کو آفرین، مرحبا، شاباش اور زندہ باد پیش کرتا ہوں جو اس مقدس خون، اس عظیم شہادت اور اس الٰہی نظام کے ساتھ وفادار رہے، استقامت، مردانگی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ساتھ ہی رہبر شہید کی عظیم شہادت پر دلی تعزیت بھی پیش کرتا ہوں۔







