شیعیت نیوز : جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن جوکہ اپنے دیوبند مسلک کے دینی مدارس میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ مولویوں اور قاریوں کی جنسی ذیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات روکنے میں ناکام ہیں اور پہلے ہی شہدائے پاک فوج کی توہین کی بعد شدید عوامی تنقید کی ذد میں تھے اب نواسہ رسولؐ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی یاد میں منعقدہ ماتم وعزاکا مزاق اڑاکر بدترین گستاخی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بنوں میں آپریشن: کالعدم سپاہ صحابہ کا دہشتگرد جہنم واصل، آٹھ ساتھی گرفتار
تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں منعقدہ وکلاء کنونشن سے خطاب کے دوران شیعہ مکتب فکر کے مذہبی عقائد وعبادات کو مزاحیہ انداز میں بیان کرکے شیعہ مسلمانوں کے دل مجروح کردیئے ہیں۔
ایک خودساختہ واقعہ بیان کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سنا ہے کوئی محرم کا ماتم ہورہا تھا، کوئی انگریز پاکستان آیا ہواتھا تو اس نے جو یہ منظر دیکھاتو پوچھا کہ بھئی یہ لوگ اپنے آپ کو کیوں مار ررہے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ یہ تو حضرت امام حسینؑ کی شہادت پر غم کا اظہار کررہے ہیں، تو اس نے کہا کہ اگر ان کا اتنا بڑا امام شہید ہوا ہے اور یہ اس پر غم کا اظہار کررہے ہیں تو آئیے ہم بھی شامل ہوجائیں، تو اس نے کہا کہ نہیں یہ چودہ سو سال پہلے شہید ہوا تھا، اس نے کہا اچھا اتنی تاخیر سے ان کو خبر پہنچی ۔ اور پھر مولانا فضل الرحمٰن اور اس پر موجود ان کے حواریوں نے زور سے قہقہہ بھی لگایا۔