کیا دینی مدارس میں پڑھنے والے معصوم بچے اور بچیاں لاوارث ہیں؟

19 جولائی, 2026 21:59

شیعیت نیوز : کیا دینی مدارس میں پڑھنے والے معصوم بچے اور بچیاں لاوارث ہیں؟

آخر ان کا جرم کیا ہے؟

صرف یہ کہ وہ کسی غریب گھر میں پیدا ہوئے؟

صرف یہ کہ ان کے والدین کے پاس مہنگے اسکولوں کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں تھی؟

صرف یہ کہ انہوں نے ثواب اور دینی تعلیم کی نیت سے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو مدارس کے سپرد کر دیا؟

کیا وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بچے نہیں؟

کیا آئینِ پاکستان ان پر لاگو نہیں ہوتا؟

یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں تکفیری یزیدی ٹولہ سوشل میڈیا پر سرگرم، قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش

کیا انہیں بھی وہی تحفظ، عزت، آزادی اور انسانی حقوق حاصل نہیں ہونے چاہئیں جو اس ملک کے ہر بچے کا حق ہیں؟

یہ ننھے فرشتے اپنی ماؤں کی گود سے نکل کر ایسے اداروں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کی رہائش، خوراک، تعلیم، تربیت، بلکہ پوری زندگی دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ ان اداروں کے اخراجات زکوٰۃ، عشر، صدقات، فطرانہ، خیرات اور عوامی عطیات سے پورے کیے جاتے ہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے یہ بھی پوچھا کہ ان معصوم بچوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہے؟ ان کی آنکھوں میں کتنے خواب دفن ہو جاتے ہیں؟ ان کی خاموش چیخیں کون سنتا ہے؟

اگر کسی معصوم پر ظلم ہو… اگر کسی بچے کی عزتِ نفس مجروح ہو… اگر کسی کی معصومیت خوف، تشدد یا جبر کی نذر ہو جائے… تو کیا صرف مجرم ہی قصوروار ہے؟ یا پھر وہ پورا معاشرہ بھی، جو سب کچھ جانتے ہوئے خاموش رہا؟

6:22 شام جولائی 20, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔