ایران-امریکہ مفاہمتی یادداشت پر عالمی ردعمل

19 جون, 2026 06:42

شیعیت نیوز : ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد عالمی سطح پر مختلف شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض مبصرین نے اسے خطے میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے امریکہ کی سفارتی ناکامی اور ایران کے سامنے پسپائی سے تعبیر کیا۔

مشرق وسطی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ امریکی سفارت کار اور امریکی محکمہ خارجہ کی سابق معاون وزیر برائے مشرق قریب باربرا لیف نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔ ٹرمپ جنگ میں واپسی نہیں چاہتے، لیکن انہوں نے وہ سفارتی دباؤ اور اثرورسوخ کھو دیا ہے جو جنگ کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں جنگ کے خاتمے کی صورت میں ان کے پاس موجود ہو سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : محرم الحرام تمام مسلمانوں کا مشترکہ ورثہ ہے، عزاداران کو مکمل تحفظ دیا جائے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

امریکہ کی سابق قومی سلامتی مشیر سوزن رائس نے معاہدے کو خوفناک اور چونکا دینے والی دستاویز تسلیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی مفاہمت ہے جس میں سینکڑوں ارب ڈالر کے ہرجانے شامل ہیں۔ ان کے مطابق، یہ نااہل مذاکرات اور تباہ کن جنگی حکمت عملی کا متوقع نتیجہ ہے اور امریکہ جلد اس بڑی قومی سلامتی کی غلطی سے باہر نہیں نکل سکے گا۔

دوسری جانب ریاست کنساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل نے مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کے لیے میزائل رکھنے کا حق حاصل ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کو خطے میں استحکام کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔

امریکی صحافی اور مبصر ٹاکر کارلسن نے اس مفاہمتی یادداشت کو امریکی سلطنت کے خاتمے کی علامت قرار دیا۔

روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔

7:48 صبح جون 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔