مکہ کا کاغذی اتحاد: سعودی رجیم کی کمزوری، پاکستان اور ترکیہ کی مجبوری
مکہ معاہدہ
شیعیت نیوز : الاخبار نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی اتحادوں کی ازسرِنو ترتیب قرار دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی آٹھ بنیادی تضادات کا ذکر کیا ہے جو اس معاہدے کے عملی امکانات کو کم کرتے ہیں۔ ان تضادات میں امریکہ پر تینوں ممالک کا انحصار، فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشات، اور ترکیہ کے نیٹو سے تعلق خاص طور پر قابلِ غور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشکل دور میں عوام کا استقامت ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، ایرانی صدر
الاخبار کے مطابق اس معاہدے کی سب سے زیادہ ضرورت سعودی عرب کو ہے جو ایران اور انصار اللہ کے مقابلے میں دفاعی کمزوری کا شکار ہے، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کو اس معاہدے سے کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا۔ ترک مصنف فہمی قورو کے بقول یہ اتحاد 1955 کے "بغداد معاہدے” کی یاد تازہ کرتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ خطے میں مزید رقابتوں اور بدامنی کا سبب بنے۔







