آبنائے ہرمز میں کشیدگی، سمندری ٹریفک تقریباً معطل، سینکڑوں جہاز پھنس گئے

26 مارچ, 2026 12:47

شیعیت نیوز : آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری ٹریفک تقریباً رُک گئی ہے اور بڑی تعداد میں جہاز مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔

بین الاقوامی میری ٹائم انٹیلیجنس ادارے ’ونڈورڈ‘ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے تیسرے ہفتے میں بھی اس اہم گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت معمول پر نہیں آ سکی، جس کے باعث عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خارگ جزیرہ: خلیج فارس میں بڑھتی کشیدگی کا مرکز، ایران کی دفاعی تیاریوں میں اضافہ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج عرب میں اس وقت مجموعی طور پر 686 جہاز موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں رکے ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کئی جہاز مالکان فوری طور پر متبادل طویل راستے اختیار کرنے کے بجائے آبنائے ہرمز کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اضافی اخراجات اور وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق 15 مارچ سے 22 مارچ کے درمیان صرف 16 جہاز ایسے تھے جنہوں نے اپنے خودکار شناختی نظام (AIS) کو فعال رکھتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عبور کیا، جو معمول کے مقابلے میں انتہائی کم تعداد ہے۔

رپورٹ میں ایک اور تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا کہ کم از کم آٹھ بڑے جہاز، جن کی لمبائی 290 میٹر سے زیادہ ہے، بغیر AIS کے چل رہے تھے، جنہیں عام طور پر “ڈارک شپ” کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ان ڈارک شپس میں ایک ایسا جہاز بھی شامل تھا جس پر امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیاں عائد ہیں۔ یہ جہاز 16 مارچ کو متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہ خور فکان کے قریب دیکھا گیا، جس کے بعد اس نے اپنا AIS بند کر دیا۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں یہ تعطل طویل عرصے تک برقرار رہا تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی تیل سپلائی بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مجموعی عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے اور جہاز مالکان و عالمی مارکیٹ احتیاط کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

2:08 شام مارچ 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔