خارگ جزیرہ: خلیج فارس میں بڑھتی کشیدگی کا مرکز، ایران کی دفاعی تیاریوں میں اضافہ

26 مارچ, 2026 12:45

شیعیت نیوز : خلیج فارس میں واقع ایران کا اہم خارگ جزیرہ اس وقت ممکنہ فوجی تصادم کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں ایران نے اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع نے نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا ہے کہ ایران نے جزیرے پر اضافی فوجی دستے تعینات کیے ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو مزید فعال بنایا ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ امریکا اس جزیرے پر قبضے کی کوشش کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی شیعہ قصبہ نوگاؤں سادات کی جانب سے ایران کیلئے ہزار امریکی ڈالر کی مالی امداد

خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات اسی مقام سے ہوتی ہیں، جس کے باعث اس کی اسٹریٹیجک اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے، تاہم امریکی حکام اور فوجی ماہرین نے اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران نے جزیرے پر تہہ در تہہ دفاعی نظام قائم کر رکھا ہے، جس میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور دیگر جدید دفاعی سازوسامان شامل ہیں، جبکہ جزیرے کے اطراف میں بارودی سرنگیں بھی بچھائی گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں امریکی حملوں میں جزیرے کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم تیل کی تنصیبات کو نقصان سے بچایا گیا۔

دوسری جانب بعض امریکی اتحادی اور ماہرین اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا جزیرے پر قبضہ مسئلے کا حل ہوگا یا اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔

اسرائیلی ذرائع نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکا نے خارگ جزیرے پر قبضے کی کوشش کی تو ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس میں ڈرون اور میزائل حملے شامل ہو سکتے ہیں۔

ایران کی قیادت نے بھی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج دشمن کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق خارگ جزیرہ اپنے محدود حجم کے باوجود انتہائی اہم اسٹریٹیجک حیثیت رکھتا ہے اور اس پر کسی بھی ممکنہ کارروائی کے دور رس اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

2:09 شام مارچ 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔