رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ایکا پہلا پیغام

12 مارچ, 2026 18:23

بسم اللہ الرحمن الرحیم

"ما نَنْسَخْ مِنْ آیَةٍ أَوْ نُنْسِها نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْها أَوْ مِثْلِها”

السلام علیک یا حجة اللہ و دلیل ارادتہ،
السلام علیک یا خلیفة اللہ و ناصر حقہ،
السلام علیک یا باب اللہ و دیان دینہ،
السلام علیک یا داعی اللہ و ربانی آیاتہ،
السلام علیک یا مولای صاحب الزمان،
السلام علیک بجوامع السلام،
السلام علیک ایها المقدم المامول؛

اپنی بات کے آغاز میں اپنے آقا (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے حضور، انقلاب کے عظیم الشان رہبر، عزیز حکیم خامنہ ای کی جانگداز شہادت کے موقع پر تسلیت پیش کرتا ہوں اور ان کی جناب سے عظیم ملت ایران بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں اور اسلام و انقلاب کے تمام خادمین، ایثارگران اور اسلامی تحریک کے شہداء بالخصوص حالیہ جنگ کے شہداء کے بازماندگان اور اپنے حقیر کے لیے دعائے خیر کی درخواست کرتا ہوں۔

میرے کلام کا دوسرا حصہ عظیم ملت ایران کے نام ہے۔ سب سے پہلے مجلس محترم خبرگان کے ووٹ کے بارے میں اپنی صورت حال مختصراً بیان کر دوں۔ یہ خادم، سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، آپ ہی کی طرح اور اسلامی جمہوریہ کے ٹیلی ویژن کے ذریعے مجلس محترم خبرگان کے ووٹ کے نتیجے سے باخبر ہوا۔ میرے لیے اس جگہ پر بیٹھنا جہاں دو عظیم الشان پیشوا، خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای، جلوہ افروز رہے ہیں، ایک مشکل کام ہے۔ کیونکہ اس کرسی پر وہ شخص بیٹھا کرتا تھا جو 60 سال سے زیادہ عرصے تک اللہ کی راہ میں مجاہدت کرنے اور ہر قسم کی لذتوں اور آرام و آسائش سے گزرنے کے بعد، نہ صرف موجودہ عصر میں بلکہ اس ملک کے حکمرانوں کی پوری تاریخ میں ایک روشن گوہر اور ممتاز چہرہ بن گیا۔ اس کی زندگی اور اس کی موت کی نوعیت دونوں حق پر سہارے کی وجہ سے شان و عزت سے عبارت تھی۔

مجھے یہ توفیق حاصل ہوئی کہ میں شہادت کے بعد ان کے پیکر کی زیارت کروں؛ جو کچھ میں نے دیکھا وہ سختی کا پہاڑ تھا اور میں نے سنا کہ ان کے صحت مند ہاتھ کی مٹھی بندھی ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں، اہل علم کو دیر تک بہت کچھ کہنا چاہیے۔ اس مختصر موقع پر انہی چند باتوں پر اکتفا کرتا ہوں، تفصیلات کو مناسب مواقع پر چھوڑتا ہوں۔ یہ ہے اس جیسی شخصیت کے بعد رہبری کی کرسی پر بیٹھنے کی مشکل کی وجہ۔ اس خلا کو پُر کرنا صرف حضرت حق سے استعانت اور آپ عوام کے تعاون سے ممکن ہے۔

اس کے بعد ایک نکتے پر زور دینا ضروری ہے جس کا میرے اصل کلام سے براہ راست تعلق ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ شہید رہبر اور ان کے عظیم پیش رو کے ہنر میں سے ایک، عوام کو ہر میدان میں شامل کرنا اور انہیں مسلسل بصیرت اور آگاہی دینا اور عملی میدان میں ان کی قوت پر بھروسہ کرنا تھا۔ انہوں نے اسی طرح جمہور اور جمہوریت کے حقیقی معنی کو عملی جامہ پہنایا اور عمق جان سے اس پر یقین رکھتے تھے۔ اس کی واضح تاثیر ان چند دنوں میں دیکھی گئی جب ملک بغیر رہبر اور بغیر کمانڈر ان چیف کے تھا۔ عظیم ملت ایران کی بصیرت اور ذہانت حالیہ واقعے میں اور اس کی ثابت قدمی، شجاعت اور میدان میں موجودگی نے دوست کو تحسین پر اور دشمن کو حیرت پر مجبور کر دیا۔ یہ آپ عوام ہی تھے جنہوں نے ملک کی

رہبری کی اور اس کے اقتدار کی ضمانت دی۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کے سفارت خانوں پر پرتشدد مظاہروں کے بعد امریکہ کا پشاور قونصل خانہ مستقل بند کرنے کا فیصلہ

اس تحریر کے آغاز میں جو آیت درج کی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی آیت ایسی نہیں ہے کہ یا تو اس کی مدت ختم ہو جائے یا اسے بھلا دیا جائے، مگر یہ کہ حضرت حق (جل و علا) کی جانب سے اس جیسی یا اس سے بہتر آیت اس کی جگہ دے دی جائے۔ اس شریف آیت کے استعمال کی مناسبت یہ نہیں ہے کہ یہ بندہ رہبر شہید کے برابر ہو، یہاں تک کہ اس سے برتر سمجھا جائے؛ بلکہ آیت مبارکہ کے ذکر کا مقصد آپ عزیز ملت کے بجا اور نمایاں کردار کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اگر وہ عظیم نعمت ہم سے چھن گئی تو اس کی جگہ ایک بار پھر ملت ایران کا عمارانہ کردار اس نظام کو عطا کیا گیا۔ یہ جان لیں کہ اگر آپ کی طاقت میدان میں ظاہر نہ ہو تو نہ کوئی رہبری اور نہ کوئی مختلف ادارے جن کا اصل مقام عوام کی خدمت ہے، مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا سکیں گے۔

اس معنی کے بہتر طور پر عملی جامہ پہنانے کے لیے:

اولاً: اللہ تبارک و تعالیٰ کو یاد کرنا اور ان پر توکل کرنا اور معصومین (صلوات اللہ علیہم اجمعین) کی پاکیزہ روحوں سے توسل کرنا، انہیں ایسے عظیم کیمیا اور سرخ گندھک کے طور پر دیکھا جائے جو ہر قسم کی کشائشوں اور دشمن پر قطعی فتح کی ضمانت ہے۔ یہ وہ عظیم برتری ہے جو آپ کو حاصل ہے اور آپ کے دشمنوں کو نہیں۔

ثانیاً: ملت کے مختلف افراد اور طبقات کے درمیان اتحاد کو، جو عموماً مشکل کے وقت خاص طور پر نمایاں ہوتا ہے، کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ یہ اختلاف کے نکات کو نظر انداز کرنے سے حاصل ہوگا۔

ثالثاً: میدان میں موثر موجودگی برقرار رکھی جائے؛ خواہ اس صورت میں جیسا کہ آپ نے جنگ کے ان دنوں اور راتوں میں دکھایا، یا مختلف سماجی، سیاسی، تربیتی، ثقافتی اور حتیٰ کہ سیکورٹی میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صورت میں۔ اہم یہ ہے کہ سماجی اتحاد کو نقصان پہنچائے بغیر، صحیح کردار کو بخوبی سمجھا جائے اور جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل کیا جائے۔ رہبری اور بعض دیگر ذمہ داران کا ایک فرض، معاشرے کے افراد یا طبقات کو ان میں سے بعض کرداروں سے آگاہ کرنا ہے۔ اسی لیے میں 1447 کے یوم القدس میں شرکت کی اہمیت کو یاد دلاتا ہوں جس میں دشمن کو توڑنے والے عنصر کو سب کی توجہ کا مرکز ہونا چاہیے۔

رابعاً: ایک دوسرے کی مدد و یاری سے باز نہ رہیں۔ الحمدللہ، زیادہ تر ایرانیوں کی ہمیشہ کی عادت یہی رہی ہے اور امید ہے کہ ان خاص دنوں میں جب قدرتی طور پر ملت کے بعض افراد دوسروں کی نسبت زیادہ مشکلات سے گزر رہے ہیں، یہ معاملہ زیادہ نمایاں ہو۔ اسی موقع پر میں سروسز اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں ملت کے ان عزیز افراد اور عوامی امدادی ڈھانچوں کی کسی بھی قسم کی مدد و اعانت سے دریغ نہ کریں۔

اگر ان پہلوؤں کا خیال رکھا جائے تو آپ عزیز ملت کا عظمت و شوکت کے دنوں تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہوگا۔ اس کی قریب ترین مثال، اللہ کے حکم سے موجودہ جنگ میں دشمن پر فتح ہو سکتی ہے۔

میرے کلام کا تیسرا حصہ، ہمارے بہادر رزمندگان سے دلی تشکر ہے جنہوں نے ان حالات میں جب ملت اور عزیز وطن پر مظلومانہ طور پر استکباری محاذ کے سرغنہ حملہ آور ہوئے، اپنی کوبند ضربوں سے دشمن کا راستہ روک دیا اور انہیں عزیز وطن پر تسلط اور ممکنہ طور پر اس کے ٹکڑے کرنے کے وہم سے باہر نکال دیا۔

عزیز رزمنده بھائیو! عوام کے افراد کی خواہش، موثر اور پشیمان کن دفاع کا تسلسل ہے۔ نیز یقیناً دوسرے محاذ کھولنے کے بارے میں مطالعہ کیا گیا ہے جہاں دشمن کا تجربہ نہ کے برابر ہے اور وہ انتہائی کمزور ہوگا، اور جنگی صورتحال کے جاری رہنے اور مصالح کی رعایت کی بنیاد پر اسے فعال کیا جائے گا۔

مزاحمتی محاذ کے رزمندگان کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم مزاحمتی محاذ کے ممالک کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں اور امر مقاومت اور جبهہ مقاومت، انقلاب اسلامی کی اقدار کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ بلا شبہ اس محاذ کے اجزاء کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، صیہونی فتنے سے نجات کا راستہ مختصر کر دے گا۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ بہادر اور باایمان یمن نے مظلوم غزہ کے عوام کے دفاع سے ہاتھ نہیں روکا، قربان کار حزب اللہ نے تمام رکاوٹوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ کی مدد کی اور عراق کی مزاحمت بھی بہادری سے اسی خط پر چل رہی ہے۔

7:57 شام مارچ 12, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔