حضرت عابس بن ابی شبیب شاکریؑ: وفاداری، بصیرت اور شجاعت کا حسین امتزاج، کربلا کی لازوال داستان

21 جون, 2026 08:44

شیعیت نیوز : تاریخ اور اسلاف کے حالات و واقعات کا مطالعہ محض ماضی کے قصوں اور واقعات سے آگاہی کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری رہنمائی، کردار سازی اور عملی نمونوں کا ایک عظیم سرمایہ بھی ہے۔ اقوام، قبائل اور شخصیات کے عروج و زوال، ان کے افکار و اعمال اور ان کے فیصلوں کے نتائج کا مطالعہ انسان کو زندگی کے اہم اسباق سکھاتا ہے۔

اسی بنا پر حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ فرد اور معاشرے دونوں کی تعمیر و اصلاح میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

حضرت عابس علیہ السلام زہد و تقویٰ، عبادت و شب بیداری، اخلاص و وفاداری اور شجاعت و بصیرت کا حسین امتزاج تھے۔ وہ صرف ایک عابد و زاہد انسان ہی نہیں تھے بلکہ اپنے زمانے کے سیاسی، سماجی اور فکری حالات سے بھی مکمل آگاہی رکھتے تھے۔ انہوں نے جنگِ صفین میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی بھرپور نصرت کی، کوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کی حمایت میں نمایاں کردار ادا کیا اور کربلا میں اپنی بے مثال جانثاری کے ذریعہ دشمنانِ حق کو وفاداری، استقامت اور شجاعت کا درس دیا۔

خاندان اور نسب حضرت عابس علیہ السلام، ابو شبیب بن شاکر شاکری کے فرزند تھے اور قبیلہ بنو شاکر سے تعلق رکھتے تھے، جو قبیلہ ہمدان کی ایک ممتاز شاخ شمار ہوتا تھا۔ بنی شاکر ان قبائل میں شامل تھے جو امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے اپنی بے مثال محبت، اخلاص اور وفاداری کے لیے مشہور تھے۔ یہی محبتِ ولایت تھی جس نے انہیں میدانِ صفین میں عظیم قربانیاں پیش کرنے پر آمادہ کیا۔

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے جنگِ صفین کے موقع پر بنی شاکر کی مدح کرتے ہوئے فرمایا: "اگر ان کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ جاتی تو اللہ تعالیٰ کی حقیقی عبادت کا حق ادا ہو جاتا۔”

حضرت عابس علیہ السلام شیعہ اکابرین اور نامور شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ایک باوقار رئیس، بے مثال مجاہد، فصیح خطیب، عبادت گزار اور شب زندہ دار انسان تھے۔ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق وہ امام حسین علیہ السلام کے ان وفادار اصحاب میں شامل تھے جنہوں نے کربلا میں جامِ شہادت نوش کیا۔ زیارتِ ناحیہ مقدسہ اور زیارتِ رجبیہ میں بھی ان پر درود و سلام بھیجا گیا ہے۔

جنگِ صفین میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے ساتھ اہلِ بیت علیہم السلام بالخصوص امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے حضرت عابس علیہ السلام کی بے پناہ محبت اور عقیدت نے انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جنگِ صفین میں شریک ہوں۔ انہوں نے اس جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے۔

بعد ازاں جب کربلا میں وہ میدانِ جنگ میں اترے تو عمر بن سعد کے لشکر کے ایک شخص ربیع بن تمیم ہمدانی نے انہیں فوراً پہچان لیا اور کہا: "جب میں نے عابس (علیہ السلام) کو اپنی طرف آتے دیکھا تو فوراً پہنچان گیا، کیونکہ میں انہیں پہلے مختلف جنگوں، خصوصاً صفین میں دیکھ چکا تھا، اور وہ لوگوں میں نہایت بہادر اور دلیر شخص کے طور پر معروف تھے۔”

پیشانی پر زخم کا نشان بعض مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ حضرت عابس علیہ السلام کی پیشانی پر ایک نمایاں زخم کا نشان موجود تھا، لیکن اکثر نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ زخم کب اور کہاں لگا تھا۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشان جنگِ صفین میں دشمنانِ حق کے خلاف جہاد کے دوران لگا تھا۔

علامہ حائری نے طبری کی روایت نقل کرتے ہوئے وضاحت کی ہے: "پھر عابس (علیہ السلام) ننگی تلوار ہاتھ میں لے کر دشمن کی طرف بڑھے، جبکہ جنگِ صفین کا زخم ان کی پیشانی پر نمایاں تھا، اور وہ مبارزت طلب کر رہے تھے۔”

یہ زخم حضرت عابس علیہ السلام کی پیشانی پر سجا ہوا ایک اعزاز تھا، جو ان کی بے مثال شجاعت، حق پر استقامت اور میدانِ جہاد میں ثابت قدمی کی روشن یادگار تھا۔

کوفہ کے حالات و واقعات میں حضرت عابس علیہ السلام کا کردار تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام ان لوگوں میں سے نہ تھے جو معاشرے کے اہم دینی اور سیاسی معاملات سے بے تعلق رہتے ہوں۔ وہ ایک صاحبِ بصیرت اور ذمہ دار شخصیت تھے جو اپنے زمانے کے حالات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ جنگِ صفین میں اپنی نمایاں خدمات کے بعد جب امام حسین علیہ السلام کے سفیر اور نمائندہ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کوفہ تشریف لائے تو حضرت عابس علیہ السلام نے ایک مرتبہ پھر حق و ولایت کی نصرت میں اپنا کردار ادا کیا۔

مورخین نے اس سلسلے میں حضرت عابس علیہ السلام کی دو نمایاں خدمات کا ذکر کیا ہے۔

حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کی حمایت میں ولولہ انگیز خطاب حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کی کوفہ آمد کے بعد آپ مختار بن ابی عبیدہ ثقفی رضوان اللہ تعالی علیہ کے گھر میں قیام پذیر ہوئے۔ جب امام حسین علیہ السلام کا خط اہلِ کوفہ اور آپؑ کے شیعوں کے سامنے پڑھ کر سنایا گیا تو لوگوں کے دلوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی۔ اسی موقع پر حضرت عابس علیہ السلام اٹھے اور حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "میں آپ کو لوگوں کے دلوں کے حالات نہیں بتا سکتا اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی دعویٰ کرتا ہوں، اور نہ میں آپ کو دھوکہ دینا چاہتا ہوں۔ البتہ خدا کی قسم! میں اپنے دل کی بات ضرور بیان کرتا ہوں۔ جب بھی آپ مجھے پکاریں گے، میں آپ کی دعوت پر لبیک کہوں گا۔ آپ کے دشمنوں کے خلاف جنگ کروں گا اور اپنی آخری سانس تک اپنی تلوار کے ذریعہ آپ کی نصرت کرتا رہوں گا۔ میں اس عمل کا اجر و ثواب خدا کے سوا کسی سے طلب نہیں کرتا۔”

حضرت عابس علیہ السلام کی یہ مختصر مگر پُراثر تقریر حاضرین کے دلوں میں اتر گئی۔ ان کے بعد حضرت حبیب بن مظاہر علیہ السلام کھڑے ہوئے اور فرمایا: "خدا آپ پر رحمت نازل کرے اے عابس! آپ نے مختصر الفاظ میں اپنے دل کی پوری کیفیت بیان کر دی۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں بھی اسی عقیدے اور اسی عزم پر قائم ہوں جس پر آپ قائم ہیں۔”

یہ واقعہ حضرت عابس علیہ السلام کی خلوصِ نیت، جرأتِ اظہار اور ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے ان کی غیر متزلزل وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

حضرت مسلم علیہ السلام کے خط کے امین اور قاصد حضرت عابس علیہ السلام کی دوسری اہم خدمت یہ تھی کہ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام نے انہیں اپنا نمائندہ اور قابلِ اعتماد قاصد منتخب کیا تاکہ وہ اہلِ کوفہ کی بیعت اور شہر کے حالات پر مشتمل خط امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں مکہ مکرمہ پہنچائیں۔

مؤرخین کے مطابق حضرت عابس علیہ السلام چند دیگر افراد کے ہمراہ مکہ معظمہ روانہ ہوئے اور حضرت مسلم علیہ السلام کا مکتوب امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ انہوں نے نہ صرف خط پہنچایا بلکہ کوفہ کے حالات، اہلِ کوفہ کے جوش و خروش، ان کی بیعت اور امامؑ کی نصرت کے لیے ان کے ظاہری عزم و ارادے کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی۔

امام حسین علیہ السلام نے یہ خط اور حالات کی تفصیلات سننے کے بعد کوفہ کی جانب سفر کی تیاری کا آغاز فرمایا۔

یہ ذمہ داری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حضرت عابس علیہ السلام حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کے نزدیک نہایت قابلِ اعتماد، امانت دار اور صاحبِ بصیرت شخصیت تھے۔ اسی لیے اتنے اہم اور حساس پیغام کی ترسیل کے لیے ان کا انتخاب کیا گیا۔

حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام کی یہ خدمات ظاہر کرتی ہیں کہ وہ صرف ایک عابد، زاہد اور شب زندہ دار شخصیت ہی نہیں تھے بلکہ میدانِ عمل میں بھی ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے سچے سپاہی، بصیرت مند مجاہد اور حق کے وفادار علمبردار تھے۔

مکہ سے کربلا تک امام حسین علیہ السلام کے ہمسفر تاریخی روایات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام، حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کا خط امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچانے کے بعد دوبارہ کوفہ واپس لوٹے ہوں۔ مؤرخین نے بھی ان کی واپسی کا کوئی واضح ذکر نہیں کیا۔ قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ ہی میں مقیم رہے اور امام حسین علیہ السلام کے قافلۂ حق سے وابستہ ہو گئے۔

جب امام حسین علیہ السلام نے مکہ معظمہ سے عراق کی جانب سفر کا آغاز فرمایا تو حضرت عابس علیہ السلام نے عشقِ ولایت اور وفاداری کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے ابتدا سے انتہا تک اپنے امام کا ساتھ نبھایا۔ وہ ان خوش نصیب اصحاب میں شامل تھے جنہوں نے سفر کے ہر مرحلے پر امامِ وقت کی نصرت کو اپنی سعادت سمجھا اور بالآخر کربلا میں جامِ شہادت نوش کر کے وفا کی لازوال داستان رقم کی۔

علامہ مازندرانی لکھتے ہیں: "عابس علیہ السلام، شوذب علیہ السلام کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رہے، یہاں تک کہ آپؑ کے ساتھ سرزمینِ کربلا میں اترے۔”

یہ مختصر جملہ حضرت عابس علیہ السلام کی غیر متزلزل وفاداری اور عشقِ حسینی کا بہترین عکاس ہے۔

کربلا میں حضرت عابس علیہ السلام کا کردار حضرت عابس علیہ السلام کی سابقہ زندگی، ان کے خطبات اور عملی کردار سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے ابتدا ہی سے اپنے آپ کو فرزندِ رسولؐ حضرت امام حسین علیہ السلام کی نصرت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اس سفر کا اختتام شہادت پر ہوگا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے دنیاوی آسائشوں اور ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر امامِ حق کا ساتھ اختیار کیا۔

کربلا میں بھی ان کا عزم و استقلال متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے نہ صرف خود راہِ حق میں جان قربان کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ اپنے رفیقِ وفا جناب شوذب علیہ السلام کو بھی اس عظیم سعادت کے لیے آمادہ کیا۔

حضرت شوذب علیہ السلام کی حوصلہ افزائی حضرت شوذب علیہ السلام قبیلۂ شاکر کے آزاد کردہ غلام تھے، لیکن اپنی شجاعت، دیانت اور وفاداری کی وجہ سے کوفہ کے معزز افراد میں شمار ہوتے تھے۔ وہ پورے سفر میں حضرت عابس علیہ السلام کے ہمراہ رہے اور کربلا تک ان کا ساتھ نبھاتے رہے۔

روزِ عاشورا حضرت عابس علیہ السلام نے حضرت شوذب علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے شوذب! آج تمہارے دل میں کیا ارادہ ہے؟”

حضرت شوذب علیہ السلام نے عرض کیا: "آپ میرے بارے میں کیا گمان رکھتے ہیں؟ خدا کی قسم! میرا ارادہ یہ ہے کہ رسولِ خداؐ کے نواسے کی رکاب میں جنگ کروں اور اپنی جان قربان کر دوں۔”

یہ جواب سن کر حضرت عابس علیہ السلام نے فرمایا: "مجھے بھی آپ سے یہی امید تھی۔ اب امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو جائیں تاکہ وہ آپ کو بھی دوسرے شہداء کی طرح اپنے اصحاب میں شمار فرمائیں۔ اگر اس وقت میرے پاس آپ سے زیادہ عزیز کوئی اور شخص ہوتا تو میں اس کے میدان میں جانے پر بھی اسی طرح خوش ہوتا، کیونکہ آج قربِ الٰہی اور نصرتِ امام کا دن ہے۔”

پھر حضرت عابس علیہ السلام نے نہایت بصیرت افروز الفاظ میں فرمایا: "جان لو! آج کے بعد ایسی سعادت دوبارہ نصیب نہ ہوگی۔ آج عمل کا دن ہے اور کل حساب کا دن ہوگا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب حاصل کریں۔”

یہ سن کر حضرت شوذب علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، اجازتِ جہاد طلب کی، اپنے مولا سے وداعی سلام کیا اور میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہو گئے۔ انہوں نے بڑی بہادری کے ساتھ جنگ کی اور آخرکار جامِ شہادت نوش کر کے اپنے آقا کے وفادار اصحاب میں شامل ہو گئے۔

یہ واقعہ حضرت عابس علیہ السلام کی روحانی بصیرت، علوِّ ہمت اور راہِ شہادت سے گہری آشنائی کا واضح ثبوت ہے۔ وہ خود بھی شہادت کے مشتاق تھے اور دوسروں کو بھی اس عظیم سعادت کی طرف راغب کرتے تھے۔

آخری ملاقات اور محبوب سے آخری گفتگو حضرت شوذب علیہ السلام کی شہادت کے بعد حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ادب و عقیدت کے ساتھ سلام عرض کیا اور عرض کیا: "یا اباعبداللہؑ! روئے زمین پر کوئی شخص، خواہ وہ میرا قریبی رشتہ دار ہو یا دور کا عزیز، آپ سے زیادہ میرے نزدیک محبوب اور عزیز نہیں ہے۔ اگر میرے بس میں ہوتا کہ اس ظلم و ستم اور قتل کو آپ سے دور کر دوں تو اپنی پوری قوت اور طاقت اس راہ میں صرف کر دیتا۔”

پھر انہوں نے عرض کیا: "یا اباعبداللہؑ! آپ گواہ رہیے کہ میں آپ کے دین اور آپ کے والدِ گرامی امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے دین پر قائم ہوں۔”

یہ کہہ کر انہوں نے اپنے امام سے رخصت لی اور میدانِ کربلا کی جانب روانہ ہو گئے، جہاں ان کا نام تاریخِ وفا کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہونے والا تھا۔

میدانِ جنگ میں حضرت عابس علیہ السلام کی شجاعت جب حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام میدانِ جنگ میں اترے تو ان کی پیشانی پر ایک زخم آ چکا تھا۔ عمر بن سعد کے لشکر کا ایک شخص، ربیع بن تمیم کی جیسے ہی ان پر نظر پڑی، فوراً انہیں پہچان گیا۔ اسے جنگِ صفین میں عابس علیہ السلام کی بے مثال شجاعت یاد تھی، چنانچہ بے اختیار پکار اٹھا: "یہ شیرِ بیشہ ہے! یہ ابنِ ابی شبیب ہے! خبردار! کوئی شخص اس کے مقابلے کے لیے نہ جائے، ورنہ اس کی تلوار سے سلامت نہیں بچ سکے گا۔”

علامہ مجلسی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عابس علیہ السلام بلند آواز سے للکار رہے تھے: "کیا کوئی مردِ میدان ہے؟ کیا کوئی ہے جو میرے مقابلے میں آئے؟”

مگر ابنِ سعد کے لشکر میں کسی کو ان کے سامنے آنے کی جرأت نہ ہو رہی تھی۔ یہ منظر عمر بن سعد کو ناگوار گزرا، چنانچہ اس نے حکم دیا: "اسے پتھروں سے مارو!”

اس حکم کے بعد چاروں طرف سے حضرت عابس علیہ السلام پر سنگ باری شروع کر دی گئی۔ جب حضرت عابس علیہ السلام نے یہ صورتِ حال دیکھی تو اپنی زرہ اتار پھینکی، خود بھی سر سے اتار دیا اور ننگے سر، تلوار ہاتھ میں لے کر مردانہ وار دشمن پر ٹوٹ پڑے۔

یہ بھی پڑھیں : 4 محرم الحرام: ابن زیاد ملعون کا خطاب، چار بڑے فوجی دستوں کا عمر بن سعد کے لشکر میں شمولیت

ربیع بن تمیم کہتا ہے کہ میں نے عابس علیہ السلام سے کہا: "کیا آپ کو خوف نہیں کہ اس شدید معرکے میں ننگے سر لڑ رہے ہیں؟”

حضرت عابس علیہ السلام نے جواب دیا: "دوست کی طرف سے دوست پر جو کچھ آئے، وہ آسان ہوتا ہے۔”

ربیع بیان کرتا ہے: "خدا کی قسم! میں دیکھ رہا تھا کہ عابس علیہ السلام جس سمت حملہ کرتے، دو سو سے زیادہ آدمی ان کے سامنے سے بھاگ کھڑے ہوتے اور ایک دوسرے پر گرتے جاتے تھے۔”

مرحوم ملا حبیب اللہ شریف بعض راویوں کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: "خدا کی قسم! میں نے دیکھا کہ لوگ عابس علیہ السلام کے سامنے اس طرح فرار کر رہے تھے جیسے بھیڑیں بھیڑیے سے بھاگتی ہیں، اور حضرت عابس علیہ السلام شیرِ غضنفر کی مانند ان پر حملہ آور تھے، دائیں بائیں تلوار چلاتے، دشمنوں کو خاک و خون میں ملاتے اور صفیں الٹتے جا رہے تھے۔”

حضرت عابس علیہ السلام مسلسل للکارتے، لڑتے اور دشمن پر قہر بن کر ٹوٹتے رہے، یہاں تک کہ لشکر نے چاروں طرف سے انہیں گھیر لیا۔ پھر پتھروں، نیزوں اور تلواروں کے بے شمار وار کرکے انہیں نڈھال کر دیا اور بالآخر یہ عظیم مجاہدِ راہِ حق میں جامِ شہادت نوش کر گیا۔

حضرت عابس علیہ السلام کا سرِ مبارک کاٹنے پر نزاع حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد دشمن ان کے پاکیزہ جسم کی طرف دوڑا تاکہ ان کا سرِ مبارک تن سے جدا کرے، لیکن اس معاملے میں ان کے درمیان شدید اختلاف اور کشمکش پیدا ہوگئی، کیونکہ ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ اس عظیم مجاہد کے قتل کا سہرا اس کے سر بندھے۔

راوی ربیع کے مطابق، جب عابس علیہ السلام کا سرِ مبارک کاٹا گیا تو لشکر کے متعدد افراد یہ دعویٰ کرنے لگے کہ عابس علیہ السلام کو انہوں نے قتل کیا ہے۔ اس پر عمر بن سعد نے کہا: "آپس میں جھگڑا نہ کرو، کیونکہ تم میں سے کسی ایک نے تنہا اسے قتل نہیں کیا، بلکہ تم سب اس کے قتل میں شریک ہو۔”

حضرت عابس علیہ السلام کے سرِ مبارک کو امام حسین علیہ السلام کی طرف پھینکنا اگرچہ یہ واضح نہیں کہ عمر بن سعد بعض شہداء کے سروں کو امام حسین علیہ السلام کی طرف پھینک کر کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا، تاہم تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کم از کم تین شہداء کے سروں کو امام حسین علیہ السلام کی جانب پھینکا:

1۔ حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی علیہ السلام 2۔ عمرو بن جنادہ علیہ السلام 3۔ حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری علیہ السلام

حضرت عابس علیہ السلام کی زندگی کا پیغام یہ تھی اس وفادار، مخلص اور بے مثال مجاہدِ راہِ حق کی زندگی کی ایک جھلک۔

سلام ہو آپ پر اے عابسؑ! آپ کی پوری زندگی وفاداری، بصیرت، حق شناسی اور ولایت سے وابستگی کا درخشاں نمونہ ہے۔ آپ نے آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت اور اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر عبادت اور شب بیداری اپنی حقیقی روح سے محروم رہ جاتی ہے۔ اسی طرح وہ زاہدانہ زندگی جو صرف عبادت، گوشہ نشینی اور لوگوں سے کنارہ کشی تک محدود ہو، لیکن اپنے عہد کے سیاسی و سماجی حالات اور ولیِ حق کی شناخت سے خالی ہو، وہ انسان کو کمال تک پہنچانے کے بجائے گمراہی اور خسارے کی طرف لے جا سکتی ہے۔

سلام ہو عابسؑ پر، ان کی وفاداری پر، ان کی بصیرت پر اور ان کی اس بے مثال قربانی پر جو رہتی دنیا تک حق کے متلاشیوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔

یہ متن حجۃ الاسلام والمسلمین محمد جواد طبسی کے فارسی متن کا ترجمہ ہے۔

9:47 صبح جون 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔