وہ عالم جس کے پاس علم ہو اور سیاسی بصیرت نہ ہو، وہ معاشرے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا،علامہ سید احمد اقبال رضوی
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین شعبہ اصفہان کے زیر اہتمام ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے عظیم الشان سیمینار بعنوان "مقاومتِ فاطمی: مدینہ سے بیت المقدس تک، موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں” نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوا۔ سیمینار میں وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ سید احمد اقبال رضوی حفظہ اللہ نے خصوصی شرکت اور خطاب فرمایا۔
پروگرام کا آغاز قاری احمد حسینی کی روح پرور تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جس کے بعد برادر ذیشان اور برادر ماہر عباس نے مدحِ اہلِ بیت علیہم السلام پیش کی۔ سابق مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان برادر عارف علی جانی نے خطاب کرتے ہوئے ملکی و عالمی حالات پر گفتگو کی اور نظامِ ولایت فقیہ سے مضبوط وابستگی کو شرعی و دینی ذمہ داری قرار دیا۔ بعد ازاں جناب شہزاد رفیق جعفری نے منقبتِ سیدہ طاہرہ سلام اللہ علیہا پیش کی۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی علامہ سید احمد اقبال رضوی نے نہایت جامع اور مدلل خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے لیے سیدہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی سیرت کامل نمونہ ہے۔ آپ نے امام زمانہؑ کا فرمان "لی اُسوة الحسنة بنت رسول الله” نقل کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ہر دور کے امام کے لیے کامل ترین نمونہ ہے۔ سیدہؑ نے محض اٹھارہ برس کی عمر میں اپنے بابا کے لیے "اُمّ ابیھا” کا مقام پایا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ رسولِ خدا کی حقیقی محافظہ تھیں۔ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا جس طرح دفاع سیدہؑ نے کیا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہؑ کے استقبال کے لیے اپنے جلال کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے اور فرشتے سیدہؑ کے محراب عبادت میں درود پڑھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : کالعدم سپاہ صحابہ کا تکفیری مولوی مفتی ابو محمد سوشل میڈیا پر عوامی تنقید کی زد میں
علامہ سید احمداقبال رضوی نے طلاب و نوجوانوں کو خصوصاً مخاطب کرتے ہوئے سیاسی شعور کی اہمیت واضح کی اور فرمایا:
"وہ وہ عالم جس کے پاس علم ہو اور سیاسی بصیرت نہ ہو، وہ معاشرے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔”
انہوں نے کہا کہ سیاست دین سے جدا نہیں، اور ایک طالب علم کے لیے سیاسی فہم وقت کی ضرورت ہے۔
علامہ صاحب نے خطاب کے آخر میں مصائبِ سیدہ طاہرہ سلام اللہ علیہا بیان کیے۔ اور برادر غلام علی بلتستانی و عرفان حیدر نے نوحہ خوانی کی۔ اختتامی مرحلے میں سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں شرکائے سیمینار نے مختلف موضوعات پر سوالات کیے۔ پروگرام کی نظامت مولانا محمد ندیم علوی نے بہترین انداز میں انجام دی۔یہ بابرکت سیمینار علمی، فکری اور روحانی اعتبار سے نہایت مؤثر اور کامیاب رہا۔







