پارہ چنار بحران کو "قبائلی یا زمینی تنازع” قرار دیکر فوجی ترجمان کا بری الذمہ ہونا زمینی حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا ردعمل میں بیان
شیعیت نیوز:ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس پر سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ردعمل میں کہا ہے کہ فوجی ترجمان کا یہ کہنا کہ پارہ چنار کے بحران کو دہشت گردی نہیں کہا جا سکتا گہری تشویش کا باعث ہے۔
راستوں پر نشانہ بنا کر قتل عام اور تشدد کا نشانہ بنانا دہشت گردی نہیں تو پھر دہشت گردی ہے کیا۔؟
بحران کو محض "قبائلی یا زمینی تنازع” کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دینا زمینی حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
کرم کے عوام انصاف، تحفظ اور پائیدار امن کے حقدار ہیں جسے یقینی بنانا ریاست کی اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔
میں متفق ہوں کہ کرم تنازع کا حل مکمل طور پر سیاسی نکالنا چاہیئے لیکن سیکورٹی ادارے اپنی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔
صوبائی اور وفاقی حکومت کرم بحران کی جڑ میں موجود زمینی تنازعات کے حل کی کوششیں تیز تر کریں۔
آئیں فیصلہ کن اور ہمدردانہ اقدامات کے ذریعے اس سنگین بحران کو ہمیشہ کیلئے حل کریں تاکہ مزید معصوم شہریوں کا خون نہ بہے۔








