مشرق وسطی

اس بار اردن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے نشانے پر

شیعیت نیوز: ایک لبنانی اخبار نے لکھا ہے کہ اردن کے بادشاہ نے ریاض پر اقتصادی ناکہ بندی میں حصہ لینے اور اس ملک کے خلاف سازش کرنے کے ساتھ ساتھ امان کے لئے عرب ممالک کی امداد روکنے کا الزام لگایا ہے۔

اردن کو کئی برسوں سے مختلف سطحوں بالخصوص اقتصادی سطح پر افراتفری کا سامنا ہے، جس کی وجہ بظاہر اردن کے لیے ایک مخصوص ایجنڈا طے کرنا، امریکہ اور سعودی عرب کی مداخلت اور اس کے خلاف غیر اعلانیہ پابندیاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان پر بزدل حکمران امریکی آشیر باد مسلط کیئے گئے جو الیکشن سے خوفزدہ ہیں، علامہ راجہ ناصرعباس

اسی ایجنڈے کے بارے میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے ایک سال قبل، اردن کی میڈیا شخصیات کے ایک گروپ میں کھل کر بات کہی تھی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر پر اسے مسلط کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔

اس کے علاوہ، عبداللہ دوم نے انکشاف کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اردن کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور برادر عرب ممالک کو اردن کی امداد سے روک رہے ہیں۔

الاخبار کے مطابق، اردن کے بادشاہ کے اپنے ملک کی تمام سطحوں پر موجودہ صورت حال کے حوالے بیان، سینچری ڈیل سے دو طریقوں سے وابستہ ہے جسے کوشنر نے امان پر مسلط کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی مظالم کے خلاف 120 فلسطینی قیدیوں کی اجتماعی بھوک ہڑتال کی تیاری

بتایا جاتا ہے کہ اردن کے بادشاہ کے بھائی شہزادہ حمزہ نے سعودی ولی عہد بن سلمان کے خاص مشیر باسم عواد اللہ کی مدد سے ناکام بغاوت کی کوشش کی تھی جو اس وقت اردنی حکام کی حراست میں ہیں۔

سعودی ولی عہد اور شہزادہ حمزہ کے درمیان اسے سازش کا ہی حصہ مانا جا رہا ہے حالانکہ ریاض نے بغاوت میں ملوث ہونے کے ثبوت کو دبانے کی کوشش کی تھی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button