علامہ جواد نقوی کا متنازعہ دعویٰ: قم و نجف کے مدارس عزاداری سے محروم ہیں
پاکستان سمیت عراق و ایران کے مدارس میں عزاداری کے اجتماعات، علماء کا دعویٰ کو مبالغہ قرار دینا

شیعیت نیوز : اس وقت پوری دنیا میں اربعین حسینی مکتبِ تشیع کی طاقت اور سربلندی اور تحریکِ مقاومت کی کامیابی کی ضمانت بن چکا ہے۔ نہ صرف سرزمینِ عراق بلکہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر گزرتے برس عوامی بیداری اربعین حسینی کو پرشکوہ بنارہی ہے۔
لیکن پاکستان میں ایک عالم دین علامہ سید جواد نقوی صاحب ایسے بھی ہیں جو اربعین حسینی کو اس کی تاریخ یعنی 20 صفر المظفر کے بجائے کسی بھی دن منالیتے ہیں۔ جبکہ وہ اس تاریخی موقع پر کسی شاہراہ پر جلوسِ عزا برآمد کرنے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کے بجائے مدرسہ کی چار دیواری کے اندر مجلس و ماتم پر ہی اکتفا کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : قائد ملت جعفریہ مفتی جعفر حسینؒ کی برسی پر علامہ شبیر میثمی کا خراج عقیدت
اس سال انہوں نے اپنی خانقاہ میں منعقدہ اربعین حسینی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کا مدرسہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ دنیا کا واحد مدرسہ ہے جہاں عزاداری ہوتی ہے۔ حتیٰ قم و نجف کے مدارس بھی عزاداری سے محروم ہیں، بلکہ وہاں طالب علموں کو تیار کرتے ہیں کہ مجلس پڑھ کر پیسہ لیں اور عزاداری سے کمائیں، جبکہ یہ واحد مدرسہ ہے جو عزاداری پر پیسہ لگاتا ہے۔
علامہ جواد نقوی کی جانب سے یہ دعویٰ فقط مبالغہ آرائی اور دروغ گوئی کے سوا کچھ نہیں۔ ایران اور عراق میں موجود مدارس دینیہ میں، جبکہ خود پاکستان میں موجود مختلف مدارس میں عزاداری کے منظم اور باوقار اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، جو کہ خود جامعہ الولایہ نامی مدرسے کے مہتمم ہیں اور اب ایوانِ بالا کے رکن بھی ہیں، دہائیوں سے عزاداری کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کے اجداد اس عزاداری کے بانی ہیں۔