کراچی میں کالعدم سپاہ صحابہ کا جلسہ، لاؤڈ اسپیکر پر "شیعہ کافر” کے نعرے
حکومت اور اداروں کا دہرا معیار، تکفیری گروہوں کو تحفظ جبکہ شیعہ عوام پر پابندیاں

شیعیت نیوز : کالعدم سپاہ صحابہ / لشکر جھنگوی نے کراچی میں شاہراہ قائدین پر جلسہ کیا، جس کے اسٹیج سے کھلے عام لاؤڈ اسپیکر پر "شیعہ کافر” کے نعرے لگائے گئے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم جماعت کے خلاف کسی کارروائی کے بجائے اس جلسے کو مکمل سکیورٹی فراہم کی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتظامیہ اور سندھ حکومت نے ایک کالعدم جماعت کو کھلے عام جلسے کی اجازت کیسے دی؟ محرم میں سبیل، مشی اور زیارت پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں لیکن سپاہِ یزید کو شیعوں کے خلاف جلسہ کرنے اور کھلے عام تکفیر کے فتوے دینے کی اجازت کس نے اور کیوں دی؟ کیا اس ملک میں فرقہ واریت خود ریاستی ادارے پھیلا رہے ہیں؟ ورنہ ان عالمی دہشت گردوں کو جلسے کی اجازت ہرگز نہ دیتے۔
واضح رہے کہ ایک جانب شیعہ مکتبِ فکر گزشتہ 40 سال سے وطنِ عزیز میں اتحاد بین المسلمین کے لیے نہ صرف عملی کوششوں میں مصروف ہے بلکہ اس راہ میں قیمتی شخصیات کی جانیں بھی قربان کرتا چلا آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قابض اسرائیل کا بھوک کو ہتھیار بنانا بدترین بربریت ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری
دوسری جانب ایک گروہ "صحابہ کی عظمت اور حرمت” کے نام پر مسلسل ملک میں فرقہ واریت کے فروغ اور تکفیر پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے انتشار پھیلانے میں مصروف ہے۔
ریاست کا دہرا معیار اس وطن کی دوسری بڑی اکثریت یعنی شیعہ مکتبِ فکر کو مسلسل عدم تحفظ اور اضطراب میں مبتلا کر رہا ہے۔ وہ قومیں اور ریاستیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جہاں انصاف کا یکساں نظام نافذ نہ ہو۔
ایک سوال پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے بھی بنتا ہے کہ وہ خود کو ایک لبرل اور ماڈریٹ جماعت قرار دیتی ہے، لیکن اس طرح کے شدت پسند دہشت گرد گروہوں کو مذہبی آزادی کس نظریے اور قانون کے تحت دی جاتی ہے؟