نفرت کی دیوار توڑنے والے دیوبند طلباء کو خراجِ تحسین
شیعیت نیوز : فیصل آباد میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں دیوبند مسلک کے کشادہ ذہن اور علم کے متلاشی 6 سینیئر طلباء کو صرف اس جرم میں مدرسہ انتظامیہ نے مدرسے سے خارج کردیا کہ وہ شیعہ مکتب فکر کی جانب سے منعقدہ مجلس ذکر نواسہ رسولؐ امام حسینؑ میں شریک ہوئے۔ اس مجلس میں ان طلباء کا شاندار استقبال کیا گیا اور نامور خطیب اہل بیتؑ علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے انہیں منبر سے خوش آمدید کہا۔
مدرسہ الجامعہ الاسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کی متعصب اور فرقہ پرست انتظامیہ نے ان طلباء کو نکال کر جہاں اپنے بغضِ اہل بیتؑ اور فرقہ وارانہ سوچ کا اظہار کیا وہیں لاکھوں دیگر دیوبند طلباء کے لئے بھی مجلسِ عزائے حسینؑ کے دروازے کھول دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
اب ہر باضمیر، صاحب علم اور جستجو رکھنے والا شخص سوچنے پر مجبور ہوگا کہ آخر شیعہ مجالس و محافل میں ایسا کیا ہے کہ اکابرین اور متعصب حلقے طلباء کو وہاں جانے سے روکنے کے لئے اس قدر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔
وہ زمانہ گزر گیا جب شیعہ مکتب فکر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ یہاں صحابہ و امہات المومنین کی توہین ہوتی ہے (نعوذ باللہ)، ذوالجناح کو سجدہ کیا جاتا ہے، الگ قرآن ہے یا نماز، روزہ، حج نہیں۔ ڈیجیٹل دور نے سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کر دیا ہے، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ تک آسان رسائی نے حقیقت کو عیاں کر دیا ہے اور سازشی تھیوریاں بے نقاب ہو رہی ہیں۔
جامعہ الاسلامیہ امدادیہ سے جبری طور پر نکالے گئے باہمت طلباء میں احمد مسعود (فیصل آباد)، طلحہ عتیق (فیصل آباد)، عبدالرحمٰن (فیصل آباد)، شاہد قدیر (اوکاڑہ)، اوصاف علی (سکھر) اور عمیر منیر (حافظ آباد) شامل ہیں۔ پوری امت مسلمہ ان جری طلباء کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے کہ انہوں نے خوف کے بت کو توڑ کر حق کی راہ اہل بیتؑ کا انتخاب کیا۔ ان شاء اللہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔







